• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
جمعہ, اپریل 17, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

جاپان میں نوجوان ورکرز کی قلت، 7 فٹ لمبے ماڈل ٹی روبوٹس کا استعمال شروع

by sohail
نومبر 2, 2020
in انتخاب, تازہ ترین, ٹیکنالوجی, دنیا
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

جاپان کی آبادی میں بوڑھے افراد کی شرح دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے جس کی وجہ سے یہ ملک لیبر فورس کی شدید کمی کا شکار ہے۔

ملک کی ایک تہائی آبادی 65 برس یا اس سے زیادہ عمر کی ہے، یہی وجہ ہے کہ جاپان میں کام کرنے کے قابل نوجوانوں کی شدید قلت پائی جاتی ہے۔

اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کمپنیاں ٹیکنالوجی کی جانب زیادہ توجہ دے رہی ہیں، اس حوالے سے جاپان کے دو سب سے بڑے اسٹورز، فیملی مارٹ اور لاسن نے انسانوں کی جگہ روبوٹس کا آزمائشی استعمال شروع کر دیا ہے۔

اس ہفتے لاسن نے ٹوکیو میں موجود اپنے اسٹور میں روبوٹس رکھ دیے ہیں، فیملی مارٹ نے گزشتہ ماہ یہی مشینی انسان استعمال کرنا شروع کیے تھے۔

فیملی مارٹ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ 2022 تک اپنے 20 سٹورز پر انہیں بطور ورکر استعمال کرنا شروع کر دیں گے۔

دونوں اسٹورز نے ماڈل ٹی کے نام سے معروف روبوٹس کا استعمال شروع کر دیا ہے جسے ایک جاپانی سٹارٹ اپ کمپنی نے تخلیق کیا ہے۔

7 فٹ لمبا یہ روبوٹ پہیوں پر چلتا ہے اور اس میں ہر طرف کیمرے، مائیکروفونز اور سینسرز لگے ہوئے ہیں۔

اس کے دونوں ہاتھوں کی تین تین انگلیاں ہیں جن کی مدد سے وہ شیلفوں میں مشروبات کی بوتلیں اور دیگر اشیاء سجا سکتا ہے۔

یہ مختلف سائز اور شکل کی اشیاء کو پکڑ سکتا ہے، انہیں اٹھا سکتا ہے اور مختلف مقامات پر رکھ سکتا ہے۔

اس سے قبل بھی مختلف کاموں کے لیے جاپان میں روبوٹس استعمال کیے جا رہے ہیں مگر وہ بہت محدود انداز میں کام کر سکتے ہیں جبکہ ماڈل ٹی جدید ترین مشین ہے جو زیادہ متنوع کام سرانجام دے سکتی ہے۔

ان روبوٹس کو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے، ایک شخص ورچوئل رئیلٹی ہیڈ سیٹ اور خصوصی طور پر تیار کیے گئے دستانے پہن کر ان سے کام لیتا ہے۔

روبوٹ میں نصب کیے گئے مائیکروفون اور ہیڈفونز اسٹور میں موجود افراد کے ساتھ رابطے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

ان روبوٹس کو تیار کرنے والی کمپنی انہیں مختلف اسٹورز کو فروخت کرنے کے بجائے فیس لے کر استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

کمپنی نے فیس تو نہیں بتائی مگر اس کا کہنا ہے کہ انسانوں کے متبادل کے طور پر یہ سستے پڑیں گے۔

ان روبوٹس کو طویل فاصلے کے ذریعے بھی کنٹرول کیا جا سکتا ہے، اگست میں ایک آزمائشی تجربے کے دوران فیملی مارٹ میں موجود روبوٹ کو کمپنی کے دفتر سے کنٹرول کیا گیا جو 5 میل کے فاصلے پر تھی۔

فیملی مارٹ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایک ہی شخص مختلف اسٹورز پر موجود روبوٹس کو بیک وقت کنٹرول کر سکتا ہے جس کی وجہ سے یہ مزید سستے پڑتے ہیں۔

ابھی لاسن اور فیملی مارٹ تجرباتی طور پر ان روبوٹس کو استعمال کر رہے ہیں، اگر یہ تجربہ کامیاب ہو گیا تو دونوں اسٹورز مستقل طور پر انسانی ورکرز کی کمی اس کے ذریعے پوری کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔

Tags: جاپان میں بوڑھوں کی بڑھتی آبادیجاپانی اسٹورز میں روبوٹس کا استعمالماڈل ٹی روبوٹس
sohail

sohail

Next Post

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ بھی قرنطینہ میں چلے گئے

ش، ن اور م لیگ کی باتیں کرنے والے جان لیں ہم اکٹھے ہیں، مریم نواز

بھارتی کرکٹر عرفان پٹھان نے فلمی دنیا میں قدم رکھ دیا

سپریم کورٹ: جی آئی ڈی سی فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواستیں خارج

عالمی شہرت یافتہ صحافی و تجزیہ کار رابرٹ فسک چل بسے

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In