جاپان کی آبادی میں بوڑھے افراد کی شرح دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے جس کی وجہ سے یہ ملک لیبر فورس کی شدید کمی کا شکار ہے۔
ملک کی ایک تہائی آبادی 65 برس یا اس سے زیادہ عمر کی ہے، یہی وجہ ہے کہ جاپان میں کام کرنے کے قابل نوجوانوں کی شدید قلت پائی جاتی ہے۔
اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کمپنیاں ٹیکنالوجی کی جانب زیادہ توجہ دے رہی ہیں، اس حوالے سے جاپان کے دو سب سے بڑے اسٹورز، فیملی مارٹ اور لاسن نے انسانوں کی جگہ روبوٹس کا آزمائشی استعمال شروع کر دیا ہے۔
اس ہفتے لاسن نے ٹوکیو میں موجود اپنے اسٹور میں روبوٹس رکھ دیے ہیں، فیملی مارٹ نے گزشتہ ماہ یہی مشینی انسان استعمال کرنا شروع کیے تھے۔
فیملی مارٹ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ 2022 تک اپنے 20 سٹورز پر انہیں بطور ورکر استعمال کرنا شروع کر دیں گے۔
دونوں اسٹورز نے ماڈل ٹی کے نام سے معروف روبوٹس کا استعمال شروع کر دیا ہے جسے ایک جاپانی سٹارٹ اپ کمپنی نے تخلیق کیا ہے۔
7 فٹ لمبا یہ روبوٹ پہیوں پر چلتا ہے اور اس میں ہر طرف کیمرے، مائیکروفونز اور سینسرز لگے ہوئے ہیں۔
اس کے دونوں ہاتھوں کی تین تین انگلیاں ہیں جن کی مدد سے وہ شیلفوں میں مشروبات کی بوتلیں اور دیگر اشیاء سجا سکتا ہے۔
یہ مختلف سائز اور شکل کی اشیاء کو پکڑ سکتا ہے، انہیں اٹھا سکتا ہے اور مختلف مقامات پر رکھ سکتا ہے۔
اس سے قبل بھی مختلف کاموں کے لیے جاپان میں روبوٹس استعمال کیے جا رہے ہیں مگر وہ بہت محدود انداز میں کام کر سکتے ہیں جبکہ ماڈل ٹی جدید ترین مشین ہے جو زیادہ متنوع کام سرانجام دے سکتی ہے۔
ان روبوٹس کو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے، ایک شخص ورچوئل رئیلٹی ہیڈ سیٹ اور خصوصی طور پر تیار کیے گئے دستانے پہن کر ان سے کام لیتا ہے۔
روبوٹ میں نصب کیے گئے مائیکروفون اور ہیڈفونز اسٹور میں موجود افراد کے ساتھ رابطے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
ان روبوٹس کو تیار کرنے والی کمپنی انہیں مختلف اسٹورز کو فروخت کرنے کے بجائے فیس لے کر استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
کمپنی نے فیس تو نہیں بتائی مگر اس کا کہنا ہے کہ انسانوں کے متبادل کے طور پر یہ سستے پڑیں گے۔
ان روبوٹس کو طویل فاصلے کے ذریعے بھی کنٹرول کیا جا سکتا ہے، اگست میں ایک آزمائشی تجربے کے دوران فیملی مارٹ میں موجود روبوٹ کو کمپنی کے دفتر سے کنٹرول کیا گیا جو 5 میل کے فاصلے پر تھی۔
فیملی مارٹ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایک ہی شخص مختلف اسٹورز پر موجود روبوٹس کو بیک وقت کنٹرول کر سکتا ہے جس کی وجہ سے یہ مزید سستے پڑتے ہیں۔
ابھی لاسن اور فیملی مارٹ تجرباتی طور پر ان روبوٹس کو استعمال کر رہے ہیں، اگر یہ تجربہ کامیاب ہو گیا تو دونوں اسٹورز مستقل طور پر انسانی ورکرز کی کمی اس کے ذریعے پوری کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔