پاکستان کے معروف صحافی اور اینکر رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے دھاندلی کا الزام لگا کر سپریم کورٹ جانے کا اعلان کر دیا جس کے بعد امریکہ میں بھی پاکستانی سیاست جیسا ماحول بنا ہوا ہے۔
امریکی انتخابات کا تجزیہ
اپنے نئے وی لاگ میں انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کا دھاندلی کا الزام عائد کرنا بہت عجیب بات ہے، ورنہ ایسی گفتگو پاکستانی انتخابات کے بعد ہوا کرتی تھی۔
رؤف کلاسرا نے امریکی انتخابات کا تجزیہ کرتے ہوئے بتایا کہ امریکہ میں مضافات یا دیہات میں رہنے والے افراد نے ٹرمپ کو زیادہ ووٹ دیا ہے، اسی طرح خواتین کے برعکس دیہاتی مردوں میں بھی موجودہ امریکی صدر کی حمایت زیادہ دیکھی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ بات واضح طور پر نظر آئی ہے کہ مضافات میں رہنے والی خواتین نے جو بائیڈن کو ووٹ دیا ہے۔ اس کی ایک وجہ ان کا انداز ہے۔
رؤف کلاسرا کے مطابق اس حوالے سے کیے گئے سروے میں خواتین نے ٹرمپ کی مخالفت کی 3 وجوہات بتائی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ یہ بدتہذیبی سے گفتگو کرتے ہیں، دوسرے نظم و ضبط کے پابند نہیں ہیں اور تیسرے یہ اپنی مردانگی پر اترانے والے شخص ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خواتین ان خصوصیات کو مردوں میں پسند نہیں کرتیں۔
کسانوں کا ہمدرد عمران خان یا مریم نواز؟
رؤف کلاسرا نے کہا کہ آج لاہور میں مظاہرہ کرنے والے کسانوں پر پولیس نے تشدد کیا، واٹر کینن استعمال کی گئی اور انہیں گرفتار کیا گیا، اگرچہ بعد میں مذاکرات کے بعد انہیں چھوڑ دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس موضوع پر مریم نواز نے ٹویٹس کیے ہیں جن میں کسانوں کے حق میں بات کی گئی ہے، انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں فصل کی اچھی قیمت دینی چاہیئے۔
رؤف کلاسرا نے یاد دلایا کہ مسلم لیگ (ن) کے 5 سالہ دور حکومت میں گندم کی قیمت میں ایک روپیہ بھی اضافہ نہیں کیا گیا، ان کے دور میں گنے کی قیمت بھی سب سے کم ملی۔ شہبازشریف کے پنجاب میں کسانوں کو کئی بار مارا گیا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کا بھی ریکارڈ اس حوالے سے اچھا نہیں ہے، پچھلے سال بھی انہوں نے ابتدا میں گندم کی امدادی قیمت نہیں بڑھائی تھی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے سب سے زیادہ گندم کی امدادی قیمت میں اضافہ کیا اور 500 روپے فی من سے اسے 1100 تک لے گئے جس کے بعد اگلے 10 سال بہترین فصل ہوئی اور پاکستان گندم باہر فروخت کرتا رہا۔
رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ عمران خان کے قریبی لوگوں میں کاروباری اور صنعتکار زیادہ ہیں اور انہی کا اثرورسوخ موجود ہے، کسانوں کی ہمدردی رکھنے والوں کو زیادہ اہمیت نہیں مل پائی۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس وقت روس سے 24 لاکھ ٹن گندم درآمد کی گئی ہے اور اسے 200 ڈالر فی میٹرک ٹن کی قیمت ادا کی گئی۔ یوں روسی کسان سے منگوائی جانے والی گندم 2 ہزار فی من پڑی ہے مگر اپنے کسانوں کو حکومت 1400 روپے فی من امدادی قیمت دینا چاہتی ہے۔
رؤف کلاسرا کے مطابق پنجاب اور خیبرپختونخوا کی حکومت نے لکھ بھیجا ہے کہ گندم کی فصل پر کسان کی لاگت ساڑھے 16 سو سے 17 سو روپے فی من ہے، اسے 1400 روپے پر کیسے فروخت کیا جا سکتا ہے۔
اس حکومت کا مسئلہ ہے کہ وہ باہر ممالک کے کسانوں کو ڈالرز میں پیسے دیتی ہے لیکن اپنے کسانوں کو وہی رقم پاکستانی روپوں میں دینے پر تیار نہیں ہوتی۔
اس وقت دس لاکھ ٹن چینی باہر سے منگوائی جا رہی ہے، اسی طرح کپاس بھی بیرون ملک سے درآمد ہو رہی ہے، اسی طرح گندم کی بھی یہی صورتحال ہے۔
اگر کسان اپنا حق مانگنے سڑکوں پر آئے تو انہیں پولیس کے ذریعے مارا پیٹا جاتا ہے۔