امریکی انتخابات کا نتیجہ بہت حد تک سامنے آ چکا ہے، جو بائیڈن 264 الیکٹورل ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں جبکہ ٹرمپ 214 الیکٹورل ووٹ کے ساتھ بہت پیچھے ہیں۔
ڈیمو کریٹک امیدوار جوبائیڈن اب وائٹ ہاؤس کے نئے مکین بننے سے محض چند قدم کی دوری پر ہیں کیونکہ جوبائیڈن کو جیت کیلئے مزید 6 ووٹ درکار ہیں۔
واضح رہے امریکی انتخابات کیلئے ووٹنگ کا عمل مکمل ہوئے ایک روز گزر چکا ہے تاہم اس کے باوجود کوئی بھی امیدوار فتح کیلئے درکار 270 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پایا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریش ( اے پی) کی رپورٹ کے مطابق جو بائیڈن نے سخت مقابلے والی 2 مزید ریاستوں مشی گن اور وسکونسن میں کامیابی حاصل کر لی ہے حالانکہ 2016 کے انتخابات میں مذکورہ دونوں ریاستوں کی نشستیں ڈیموکریٹک کھو چکی تھی۔
یاد رہے جو بائیڈن اب تک 7 کروڑ 20 لاکھ 38 ہزار 30 ووٹ حاصل کر چکے ہیں جو امریکہ کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہیں جبکہ امریکی صدر ٹرمپ کو اب تک 6 کروڑ 85 لاکھ 825 ووٹ مل چکے ہیں۔
انتخابی نتائج کا حتمی اعلان ہونے سے پہلے ہی جوبائیڈن نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ میں امریکی صدر کی طرح حکومت کروں گا، جب ہم جیت جائیں گے تو کوئی نیلی یا سرخ ریاست نہیں ہو گی بلکہ صرف ریاست ہائے متحدہ امریکہ ہو گا۔
متوقع ہار کو دیکھتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پارٹی نے سخت مقابلے والی سوئنگ ریاستوں میں پنسلوینا، مشی گن اورجیارجیا میں شکست کے پیش نظر قانونی دعوے دائر کر دیئے ہیں۔
دوسری جانب ری پبلکن پارٹی پنسلوینا کے معاملے میں سپریم کورٹ کی مداخلت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو اس بات سے متعلق ہے کہ کیا ڈاک سے موصول ہونے والے بیلٹس انتخاب کے دن کے 3 دن بعد تک گنے جا سکتے ہیں؟