بھارت کے ایک سنیئر حکومتی سائنسدان کا کہنا ہے کہ ان کے ملک میں فروری تک کورونا ویکسین تیار ہو سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس ماہ ویکسین کا آخری مرحلہ شروع کر دیا گیا ہے، پہلے مراحل کے دوران اسے محفوظ اور موثر پایا گیا ہے۔
بھارت بائیوٹک نامی پرائیویٹ کمپنی حکومتی ادارے انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی ایم سی آر) کے ساتھ مل کر ‘کوویکسین’ تیار کر رہی ہے، اس سے قبل ویکسین کی تیاری اگلے برس کی دوسری سہ ماہی میں تیار ہونے کا امکان بتایا گیا تھا۔
آئی ایم سی آر کے سینئر سائنسدان رجنی کانت کا کہنا ہے کہ ویکسین اب تک بہت موثر ثابت ہو رہی ہے، امید یہی ہے کہ فروری یا مارچ میں یہ تیار ہو گی۔
بھارت میں جمعرات کو 50 ہزار 201 کورونا کیسز ریکارڈ ہوئے ہیں جس کے بعد مریضوں کی مجموعی تعداد 83 لاکھ 60 ہزار ہو گئی ہے، یہ امریکہ کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔
رجنی کانت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ وزارت صحت نے کرنا ہے کہ کوویکسین آخری مرحلے سے پہلے عام شہریوں کو دی جائے گی یا نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ جانوروں میں اور پہلے و دوسرے مرحلے میں یہ ویکسین محفوظ اور موثر ثابت ہوئی ہے تاہم تیسرا مرحلہ مکمل ہونے سے پہلے سوفیصد یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔