• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
ہفتہ, اپریل 18, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

جلن ڈرامے پر بندش اور غیراخلاقی مواد کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا

by sohail
نومبر 5, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

سپریم کورٹ میں غیراخلاقی مواد اور نجی ٹی وی چینل کے ڈرامہ جلن کے معاملے پر سماعت ہوئی جس میں پیمرا کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کر دی گئی۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اس وقت معاملہ سندھ ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے، پیمرا ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف دوبارہ سپریم کورٹ سے رجوع کر سکتا ہے۔

دوران سماعت پیمرا کے وکیل حارث عظمت نے کہا کہ نجی ٹی وی پر ایک ڈرامہ دکھایا گیا جو پاکستانی اقدار کے خلاف تھا۔

جسٹس عمر عطا بندیا نے استفسار کیا کہ اس پر پیمرا نے کیا ایکشن لیا؟ اس پر وکیل نے جواب دیا کہ پیمرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 27 کے خلاف ورزی پر کارروائی کی گئی۔

پیمرا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نجی ٹی وی پر چلنے والے ڈرامہ میں پیمرا قوانین کی خلاف ورزی ہوئی، ڈرامہ میں پاکستان کی اخلاقی، سماجی اور کلچرل اقدار کے منافی مواد نشر کرنے پر پابندی عائد کی گئی۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ آپ نے پروگرام چلنے سے قبل کوئی کوئی وارننگ دی؟ انہوں نے کہا کہ اس کیس میں باقاعدہ سماعت بھی نہیں ہوئی۔

وکیل نے بتایا کہ اگر پیمرا اس کی مکمل سماعت کرتا تو پابندی کا مقصد ہی ختم ہو جاتا، پیمرا نے چینل سے پروگرام کا مکمل اسکرپٹ مانگا لیکن نہیں دیا گیا۔

وکیل حارث عظمت نے کہا کہ پیمرا نے پروگرام کا پرومو چلنے پر وارننگ دی اور چینل کو 4 نوٹسز جاری کیے۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ ہائیکورٹ کا فیصلہ چیلنج کرنے کی بجائے پیمرا اپنے قوانین بنائے جس پر وکیل نے بتایا کہ ہائیکورٹ کا فیصلہ ہمارے آڑے آ رہا ہے۔

جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیے کہ آپ نے ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج بھی کیا اور بطور احتجاج اسکے تحت کارروائی بھی کی۔

جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ یہ قانون کے خلاف ہے، قانون میں اس کی کوئی گنجائش نہیں، جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ آپ پروگرام کی مکمل ٹرانسکرپٹ بنا کر فریقین کو فراہم کیا کریں۔

وکیل پیمرا نے عدالت سے رہنمائی کی استدعا کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا پیمرا عارضی پروگرام بندش یا شوکاز نوٹس جاری کرنے کے بعد کارروائی کرے۔

اس پر جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ آپ اپنے رولز بنائیں، عدالت سے کچھ نہ مانگیں۔

نجی چینل کے وکیل عابد زبیری نے کہا کہ پیمرا نے ڈرامہ بند کر دیا جس کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا، پیمرا نے مجھے سنے بغیر پروگرام بند کیا۔

پیمرا کے وکیل کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق پیمرا شوکاز نوٹس بھی جاری نہیں کر سکتا، غیر اخلاقی مواد یا کسی ادارے کے خلاف روزانہ پروگرام ہو اور شوکاز نوٹس پر عملدرآمد پر 12 دن لگ جائیں تو پیمرا کیا کرے۔

انہوں نے کہا کہ انڈیا، برطانیہ اور کینیڈا نے کچھ مخصوص الفاظ کی تشریح کی ہے۔

بعد ازاں عدالت نے پیمرا کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کردی۔

Tags: پیمراڈرامہ جلنسپریم کورٹ آف پاکستانغیراخلاقی مواد
sohail

sohail

Next Post

گلگت بلتستان میں انتخابی مہم، مریم نواز نے عمران خان کو مجبور وزیراعظم قرار دے دیا

امریکی قصبے میں ایک کتے کو مئیر منتخب کر لیا گیا

ایشیائی ترقیاتی بینک کا پاکستان کو 10 ارب امداد کا اعلان

جہانگیر ترین کا اسی ماہ پاکستان واپسی کا اعلان

وزیراعظم کی جانب سے ظہرانہ، اتحادی جماعتوں نے شکایات کے انبار لگا دیے

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In