کورونا وائرس کی دوسری لہر اور وبا کے پھیلاؤ میں اضافے کے خطرات کے باوجود رائے ونڈ میں سالانہ تبلیغی اجتماع شروع ہو گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے کورونا کے ضابطہ کار (ایس او پیز) کے حوالے سے اجتماع کی انتظامیہ کو آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وبا کے باعث اجتماع میں زیادہ لوگوں کو شرکت کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر لاہور مدثر کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے اجتماع کی انتظامیہ نے رضا کارانہ آمادگی کا اظہار کیا تھا کہ شرکاء کی تعداد کم سے کم رکھیں گے اور 30 سے 50 ہزار افراد اجتماع میں شرکت کریں گے۔
ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ تبلیغی اجتماع کو دو مرحلوں کی بجائے ایک مرحلے تک محدود رکھا گیا ہے۔
اسی طرح اجتماع میں داخل ہونے والے شخص کو 3 دن سے پہلے پنڈال سے باہر آنے کی اجازت نہیں ہو گی۔
ڈپٹی کمشنر کا مزید کہنا تھا کہ اجتماع میں شرکاء چار فٹ کے فاصلے پر بیٹھیں گے، اور پنڈال کو چاروں طرف سے بند رکھا گیا ہے۔
پنڈال میں ماسک کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ اجتماع کے اختتام پر شرکاء کے ایک ساتھ نکلنے پر بھی پابند عائد کی گئی ہے تاکہ کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔
یاد رہے رائے ونڈ میں ہر سال تبلیغی اجتماع منعقد ہوتا ہے، چند سالوں سے تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے اجتماع کو دو مرحلوں میں تقسیم کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود اجتماع میں لاکھوں لوگ شرکت کرتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے خطرات کے باعث حکومت نے رائے ونڈ تبلیغی مرکز کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا تھا کہ اس سال اجتماع نہ کیا جائے لیکن رائے ونڈ کی انتظامیہ نے حکومت کا مطالبہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا، بالآخر حکومت نے کورونا ایس او پیز کے تحت محدود اجتماع کرنے کی اجازت دے دی۔