امریکی انتخابات کے دوران کورونا وائرس میں ریکارڈ اضافے کے بعد یومیہ کیسز کی تعداد اوسطاً 86 ہزار ہو چکی ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق سردیوں میں اضافے کے بعد کورونا کیسز اور ہسپتالوں میں زیرعلاج مریضوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران امریکہ میں روزانہ کی بنیاد پر کورونا وائرس کے کیسز میں 45 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اسی طرح امریکہ میں کورونا وائرس سے ہونے والی اموات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جس میں یومیہ اوسطاً 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
یاد رہے امریکہ میں کورونا سے ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 32 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 90 لاکھ تک پہنچ چکی ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔
انسٹی ٹیوٹ برائے گلوبل ہیلتھ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رابرٹ مرفی کا کہنا ہے کہ امریکی صد ڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری تک وائٹ ہاؤس میں رہیں گے اس وقت تک مزید ایک لاکھ امریکی وائرس سے مرجائیں گے۔
رابرٹ مرفی کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسا وائرس ہے جو تیز رفتاری سے بڑھ رہا ہے اور یہ خود رکنے والا نہیں ہے۔
واضح رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی حریف اور صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے کہا تھا کہ وہ اپنی انتخابی مہم میں ہرگز جھوٹا وعدہ نہیں کر سکتے کہ اقتدار میں آ گئے تو چٹکی بجا کر کورونا وائرس کی وبا ختم کر دیں گے۔
اس کے برعکس ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کی انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ کورونا وبا کو ختم کر دیں گے۔
خیال رہے امریکہ میں لاکھوں لوگ اب تک کورونا وائرس سے مرچکے ہیں، اس لیے صدارتی انتخابات کے نتیجے میں کامیابی حاصل کرنے والے کو کورونا وائرس کی وبا کو کنٹرول کرنے کا سب سے بڑا چیلنج در پیش ہو گا۔