رواں سال امریکی صدارتی انتخابات کے نتائج غیر معمولی التوا کا شکار ہو رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ رواں سال انتخابات کے نتائج میں التوا کا ایک بڑی وجہ کورونا وبا کے باعث ڈاک کے ذریعے ووٹنگ بھی تھی۔
امریکی میڈیا کے مطابق انتخابات کے بعد سے اب تک چند ریاستوں میں پوسٹل بیلٹ مسلسل موصول ہونے کی وجہ سے ووٹوں کی گنتی جاری ہے جس کی وجہ سے نتائج تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں۔
اب تک کے نتائج کے مطابق ڈیموکریٹ امیدوار جوبائڈن کی پوزیشن کافی مستحکم دکھائی دے رہی ہے، جب کہ صدر ٹرمپ کے وائٹ ہاوس میں داخلے کی راہیں مسدود ہوتی جا رہی ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق نیواڈا، جارجیا، پنسلوینیا اور شمالی کیرولائنا کے نتائج امریکا کے اگلے صدر کا فیصلہ کریں گے۔
ایڈیسن ریسرچ کے مطابق ایری زونا میں 90 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہوگئی ہے جہاں جوبائیڈن 50.1 فیصد ووٹوں کے ساتھ آگے ہیں جب کہ پنسلوانیا میں94 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہو گئی ہے جس کے مطابق ٹرمپ 49.6 فیصد ووٹ لے کر جوبائڈن سے آگے ہیں۔
ریاست جارجیا میں ایک فیصد ووٹوں کی گنتی باقی ہے جس کے مطابق دونوں امیدوار ایک جتنے ووٹ حاصل کر سکے ہیں۔
یاد رہے کہ رواں سال ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات میں بڑا ووٹر ٹرن آوٹ دیکھنے میں آیا ہے۔
انتخابات سے قبل کیے گئے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ 2016 سے اب تک امریکیوں میں ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں کوئی خاص کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔
اس سروے کے باوجود رواں انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ڈیموکریٹ حریف جوبائڈن تاریخ میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والی امیدوار قرار پائے ہیں۔
اب تک کے غیرحتمی اور غیرسرکاری نتائج کے مطابق جوبائڈن 264 الیکٹورل لینے میں کامیاب ہوگئے ہیں جب کہ ری پبلکن امیدوار 214 الیکٹورل ووٹ ہی حاصل کر سکے۔
یاد رہے امریکی سیاست کا دارومدار دوجماعتی سیاست پر ہے۔ امریکا کے صدر کا انتخاب انہیں دو جماعتوں میں سے کیا جاتا ہے۔
امریکی عوام براہ راست اپنے امیدوار کو ووٹ کاسٹ نہیں کرتے بلکہ ایسے الیکٹرز کو ووٹ دیتے ہیں جو بعد میں الیکٹورل کالج کے ذریعے اُمیدوار کو ووٹ دیتے ہیں۔
امریکہ میں ہر ریاست کی آبادی کے لحاظ سے مجموعی طور پر 538 الیکٹورل ووٹ مختص کیے جاتے ہیں، دونوں امیدواروں کو جیتنے کے لیے 270 الیکٹورل ووٹ حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے