سندھ ہائیکورٹ کے جج جسٹس محمد علی مظہر نے ایک ایسے درخواست گزار پر برہمی کا اظہار کیا جس نے عدالت سے 10 گرام چرس رکھنے اور استعمال کرنے کی اجازت کیلئے عدالت سے رجوع کیا تھا۔
سندھ ہائی کورٹ نے درخواست گزار غلام اصغر سائیں کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپ کیسی درخواست لے کر آئے ہیں، کیا آپ چاہتے ہیں سب لوگ چرس پینا شروع کر دیں؟
عدالت نے درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ بتائیں آپ پر کتنا جرمانہ لگایا جائے، اس پر درخواست گزار نے کہا کہ غریب آدمی ہوں، مفاد عامہ کی درخواست لے کر آیا ہوں۔
درخواست گزار نے عدالت کو آگاہ کیا کہ بہت سے شریف لوگ چرس پیتے ہیں جنہیں ایسا کرنے پر پولیس تنگ کرتی ہے۔
درخواست گزار نے البانیہ اور آرجینٹینا کی مثال پیش کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں چرس پینے کی اجازت ہے، اس پر عدالت نے مکالمہ کیا کہ چرس پینا ہے تو ان ممالک جائیں، یہاں اجازت نہیں۔
سندھ ہائی کورٹ کے جج نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی درخواستیں عدالت میں کیوں لے کر آتے ہیں۔
اس پر درخواست گزار نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک کی آمدنی بڑھے گی، ریونیو بڑھے گا، اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایسا ریونیو اور آمدنی نہیں چاہئے، آمدنی بڑھانے کے جائز طریقے ہوتے ہیں۔
درخواست میں وزارت قانون، وفاق اور دیگر صوبائی اداروں کو فریق بنایا گیا تھا، بعد ازاں عدالت نے درخواست گزار کی درخواست کو مسترد کر دیا۔
واضح رہے درخواست گزار خود ایڈووکیٹ ہیں، انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے حکومت کے اس فیصلے کا بھی حوالہ دیا جس میں بھنگ کے سائنسی استعمال اور محدود پیمانے پر اس کی کاشت کی اجازت دی گئی ہے۔
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ چرس بھی بھنگ کی ہی ایک قسم ہے۔