باکو: آذربائیجان نے متنازعہ علاقے ناگورنو کاراباخ کے ایک شہر کا کنٹرول حاصل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
آذربائیجان کے صدر الہام علیوف کی جانب سے کاراباخ کے دوسرے بڑے شہر سوشا کا کنٹرول حاصل کرنے کا اعلان کیا گیا جس کے بعد شہریوں نے باکو کی سڑکوں پر جشن منایا اور صدر کے حق میں نعرے لگائے۔
آذربائیجان کے صدر الہام علیوف کا کہنا تھا کہ آج کا دن ملک کی تاریخ کا سب سے عظیم دن ہے۔
صدر کی جانب سے اعلان کے بعد دارالحکومت باکو میں شہری بڑی تعداد میں گھروں سے باہر نکل آئے اور سڑکوں پر ملک کے جھنڈے لہراتے رہے۔
دوسری جانب آرمینیا نے آزری میڈیا کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی شہر کا کنٹرول آذربائیجان کو نہیں دیا گیا۔
سوشا شہر جسے آمینین لوگ سوشی کہتے ہیں دونوں ممالک کے لیے ثقافتی اور اسٹریٹک حوالے سے اہمیت کا حامل ہے۔
آرمینیا کی وزارت دفاع اور ناگورنو کاراباخ کے حکام کی جانب سے سوشی شہر پر قبضے کی خبروں کی تردید کی گئی ہے۔
ناگورنا کاراباخ میں ریسکیو سروس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سوشی آذربائیجان کا نا مکمل ہونے والا خواب ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھاری تباہی کے باوجود یہ شہر دشمنوں کے حملوں کے خلاف قلعہ بنا رہے گا۔
آرمینیا کی وزارت دفاع کا اپنے بیان میں تھا کہ اسٹریٹجک حوالے سے اہمیت کے حامل شہر کے لیے جنگ جاری رہے گی۔
ناگورنو کاراباخ کی دفاعی فوج کی جانب سے اپنے بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے شہر پر قبضہ کرنے کے لیے آذری فوج کے متعدد حملے پسپا کیے ہیں۔
یاد رہے کہ 27 ستمبر سے شروع ہونے والے تنازع میں اب تک ہزاروں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے جب کہ ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔
ناگورنو کاراباخ آذربائیجان کا حصہ ہے لیکن اس میں آرمینیائی نسل کے افراد کی حکومت ہے، گزشتہ کئی سالوں سے دونوں ممالک اس خطے پر جنگیں بھی لڑ چکے ہیں۔
سویت یونین کا حصہ رہنے والے دونوں ممالک میں بین الاقوامی طاقتوں کی مداخلت کے بعد سیز فائر بھی ہوچکا ہے،دونوں فریق سیزفائر کے بعد بھی ایک دوسرے کو حملوں کا نشانہ بنانے کا الزامات لگاتے رہے ہیں۔