• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
جمعہ, اپریل 17, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

جوبائیڈن پاکستان اور بھارت کے لیے کیسے صدر ثابت ہو سکتے ہیں؟ رؤف کلاسرا کا تجزیہ

by sohail
نومبر 8, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین, دنیا
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

معروف صحافی اور اینکر رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا رخصت ہونا اور جو بائیڈن کا وائٹ ہاؤس میں براجمان ہونا پاکستان اور بھارت کے لیے دوررس تبدیلیاں لا سکتا ہے۔

اپنے وی لاگ میں رؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ امریکہ میں ہونے والی تبدیلیاں منفی ہوں یا مثبت، وہ پوری دنیا کو متاثر کرتی ہیں کیونکہ کہا جاتا ہے کہ امریکہ ہر ملک کا ہمسائیہ ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکی سیاست اور خصوصاً انتخابات پر تمام ممالک اور ان کے عوام کی نظر ہوتی ہے۔

ٹرمپ، عمران خان اور مودی

رؤف کلاسرا نے یاد دلایا کہ جب اگست میں عمران خان وزیراعظم بنے تھے تو ان سے سوال کیا گیا تھا کہ آپ اکتوبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی خطاب کرنے کیوں نہیں جا رہے تو انہوں نے ازراہ مزاح کہا تھا کہ صدر ٹرمپ بھی ایک خاص مزاج کے مالک ہیں اور میں بھی اسی قسم کا ہوں تو خدشہ ہے کوئی پیچیدگی نہ پیدا ہو جائے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان اور مودی کے تعلقات ٹرمپ کے ساتھ بہت اچھے رہے تاہم امریکی صدر کے مفادات پاکستان اور بھارت سے مختلف تھے۔ پاکستان سے وہ افغانستان کے حوالے سے کام لینا چاہتے تھے جبکہ بھارت سے ان کے مفادات اور قسم کے تھے۔

بھارت کے جوبائیڈن کے متعلق خدشات اور امیدیں

رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ اس وقت بھارت میں جوبائیڈن کے حوالے دو تین بڑے خدشات ہیں جن پر وہاں کا میڈیا بھی بات کر رہا ہے کیونکہ نئے امریکی صدر اور نائب صدر کمیلا ہیرس کے کشمیر کے متعلق ایک واضح پوزیشن لی ہوئی ہے جو بھارت کے لیے پریشان کن ہیں۔

انہوں نے یاد دلایا کہ جوبائیڈن کے ماضی قریب میں بیانات اور ویڈیوز موجود ہیں جن میں انہوں نے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور اسے بھارت کا حصہ بنانے کے حوالے سے تنقیدی گفتگو کی ہے۔

رؤف کلاسرا کے مطابق آسام میں جو شہریت ایکٹ مودی حکومت نے نافذ کیا تھا جو بائیڈن نے اس پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہوا ہے اس لیے بھارت کو خدشہ ہے پاکستان ان پہلوؤں کو استعمال کر کے امریکہ کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی کوشش کرے گا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے بھارتیوں کے ویزے کے معاملے پر بہت سختی کر دی تھی، وہاں کے پیشہ ورانہ مہارت رکھنے والے افراد کو بھی ریجیکٹ کر دیا جاتا تھا۔ بھارتیوں کی 24 فیصد ویزا درخواستیں مسترد کر دی جاتی تھیں جو ایک بہت زیادہ شرح سمجھی جاتی ہے۔

رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ جوبائیڈن سے بھارت کو امید ہے کہ وہ ویزوں کے حوالے سے نرمی کا مظاہرہ کریں گے اور بھارتیوں کے لیے امریکہ جانا آسان ہو جائے گا۔

ان کا تجزیہ تھا کہ چین کے معاملے پر بھی بھارت کو امریکی پالیسی جاری رکھنے کی توقع ہے جو واضح طور پر بھارت کے حق میں ہے۔

پاکستان کے لیے جوبائیڈن کیسے صدر ثابت ہو سکتے ہیں؟

رؤف کلاسرا نے ماضی کے اہم اوراق کھولتے ہوئے بتایا کہ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے کیری لوگر بل کے لیے جو لابنگ کی تھی اس میں جو بائیڈن کا بھی کردار تھا، اس معاملے پر فوجی اسٹیبلشمنٹ خوش نہیں تھی کیونکہ اس میں سویلین امداد پر زور تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اسٹیبلشمنٹ اس سب کے پیچھے حسین حقانی کا ہاتھ قرار دیتی تھی، یوسف رضا گیلانی کے دور میں اس موضوع پر پاکستان میں بھی بہت بحث ہوئی تھی۔ حسین حقانی کے خلاف ایک میمو گیٹ اسکینڈل بھی سامنے آیا تھا جس میں ان کے خلاف نوازشریف کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ پہنچ گئے تھے۔

رؤف کلاسرا نے بتایا کہ حسین حقانی نے جوبائیڈن کی فتح کے بعد اپنے ٹویٹ میں طنز کیا کہ جو پاکستانی صحافی آج بائیڈن کی پاکستان سے دوستی کا ذکر کر رہے ہیں ان میں سے بہت سے مجھے غدار قرار دے رہے تھے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ اس دور میں جنرل (ر) پاشا کے کہنے پر عمران خان نے حسین حقانی کے خلاف بہت تقاریر کی تھیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اب حسین حقانی کی اہمیت امریکہ میں مزید بڑھ جائے گی اور یہ نوازشریف اور عمران خان، دونوں کے لیے اچھی خبر نہیں ہو گی، پیپلزپارٹی البتہ بلاول کے لیے امریکی انتظامیہ میں حمایت پیدا کرنے کی امید کر سکتی ہے۔

رؤف کلاسرا کے مطابق نواز شریف کا کیمپ بہت خوش ہے کہ جب وہ اپوزیشن لیڈر تھے تو ان کی جوبائیڈن کے ساتھ ملاقاتیں ہوئی تھی۔ یوسف رضا گیلانی کے کیمپ کے لوگ بھی ان کی جوبائیڈن کے ساتھ تصاویر شیئر کر رہے ہیں۔

سعودی عرب نے دو ارب ڈالر واپس مانگ لیے

سینئر صحافی نے انکشاف کیا کہ ایسی خبرین سامنے آ رہی ہیں جن کے مطابق سعودی عرب نے پاکستان سے اپنے دو ارب ڈالرز واپس مانگ لیے ہیں۔

انہوں نے اپنے وی لاگ کا اختتام اس بات پر کیا کہ عمران خان کے لیے پی ڈی ایم نے اندرونی مسائل پیدا کیے ہوئے ہیں، ساتھ ہی جوبائیڈن کا صدر بننا اور سعودی عرب کا ناخوش ہونا ان مسائل میں اضافہ کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ جو بائیڈن انسانی حقوق اور میڈیا کی آزادی کے حوالے سے ٹرمپ سے مختلف خیالات رکھتے ہیں۔

Tags: جو بائیڈنرؤف کلاسرارؤف کلاسرا کا وی لاگنریندر مودی
sohail

sohail

Next Post

سپریم کورٹ کا میر شکیل الرحمان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم

ٹرمپ کو ایک اور دھچکا، میلانیا کا طلاق لینے پر غور

کیپٹن صفدر اور قمرزمان کائرہ کورونا کا شکار

زمبابوے کے خلاف دوسرے ٹی ٹونٹی میچ میں فتح، پاکستان نے عالمی ریکارڈ بنا لیا

عمران خان کا نام لینے سے تکلیف ہوتی ہے، مریم نواز

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In