امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو انتخابات میں ناکامی کے بعد ایک اور دھچکا لگنے والا ہے، ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ ان سے طلاق لینے پر غور کر رہی ہیں۔
ٹرمپ اور میلانیا کے درمیان گزشتہ چند سالوں سے کشدہ تعلقات تھے، تاہم اب انہوں نے طلاق لینے کا فیصلہ کر لیا ہے، ممکنہ طور پر وہ اپنے شوہر کے عہدہ صدارت سے الگ ہوتے ہی طلاق کیلئے عدالت سے رجوع کریں گی۔
برطانوی اخبار دی انڈیپینڈنٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں وائٹ ہاؤس کی سابق ملازمہ کے حوالے سے کہا ہے میلانیا اپنے شوہر سے طلاق لینے پر غور کر رہی ہیں۔
اخبار کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ملازمین نے بتایا ہے کہ دونوں گزشتہ 4 سال سے الگ الگ کمروں میں رہتے تھے۔
ایک رپورٹ میں وائٹ ہاؤس کی ایک سابق ملازمہ اور میلانیا ٹرمپ کے قریب رہنے والی اوماروسا کے تازہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ خاتون اول صدر سے طلاق لینے پر غور کر رہی ہیں۔
اوماروسا کا کہنا ہے کہ میلانیا نے اپنے شوہر کے عہدہ صدارت کے ختم ہونے کے فوری بعد ٹرمپ سے طلاق لینے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔
ملازمہ نے بتایا کہ وہ ایک ایک پل کو گن رہی ہیں اور جلد طلاق لے کر آزادی حاصل کرنا چاہتی ہیں۔
ان کے مطابق اگر میلانیا ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں رہائش کے دوران شوہر سے طلاق لیتیں تو وہ انتقاماً انہیں سخت مشکلات میں ڈال سکتے تھے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے 4 سال گن گن کر صبر میں گزارے۔
گزشتہ 4 سال کے دوران میلانیا اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کشیدہ تعلقات کی خبریں آتی رہی ہیں اور دونوں کے درمیان سرد مہری کی افواہیں عالمی میڈیا کی زینت بھی بنتی رہی ہیں۔
اس دوران کئی ویڈیوز سامنے آئی ہیں جن میں ٹرمپ اپنی اہلیہ کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ اسے سختی سے جھٹک دیتی ہیں۔