حالیہ امریکی صدارتی انتخابات نے ایک غیر ضروری تنازع کھڑا کردیا ہے، اسکی بہت بڑی وجہ ٹرمپ کا غیرذمہ دارانہ رویہ ہے۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ امریکی صدارتی انتخابات کے نتائج کے اعلان میں کبھی اتنی تاخیر نہیں ہوئی جتنی حالیہ انتخابات میں ہوئی۔
صدر ٹرمپ واضح طور پر شکست کھا چکے ہیں اور اپنے مد مقابل امیدوار سے بہت پیچھے ہیں۔ جو بائیڈن الیکشن جیت چکے ہیں اور اہم عالمی سیاسی رہنما انکو مبارکباد کے پیغام بھی بھیج چکے ہیں، لیکن کمال کی ضد ہے صدر ٹرمپ کی اب بھی اڑے ہوئے ہیں حالانکہ بائیڈن فاتح قرار پا چکے ہیں۔
اب آئیے تھوڑا سا ماضی میں چلتے ہیں، یہ بات ہے 2000 میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخاب کی جہاں ڈیموکریٹ امیدوار ایلگور اور ریپبلکن امیدوار جارج ڈبلیو بش ایک دوسرے کہ مدمقابل تھے۔
امریکی صدارتی اتنخابات کی تاریخ میں اتنا سخت اور کانٹے دار مقابلہ شاید ہی کبھی ہوا ہو، 2000 کے امریکی صدارتی انتخابات کے نتائج رات گئے تک نہیں آسکے تھے اور سارا دارومدار ریاست فلوریڈا کے نتائج کے اعلان ہونے پہ تھا۔
خیر جب فلوریڈا کے نتائج آئے تو وہ اس قدر کلوز تھے کہ امریکہ کے الیکشن قوانین کے مطابق دوبارہ گنتی ہونی چاہئے تھی کیونکہ بش کی برتری نہ ہونے کہ برابر مطلب 0.009% تھی۔ پھر آیا امریکی عدالتی تاریخ کا سب سے متنازع فیصلہ جو بہت ہی معمولی اکثریت سے دیا گیا کہ فلوریڈا میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی نہیں ہوگی۔
یوں جارج بش مطلوبہ ووٹ سے فقط ایک ووٹ زیادہ لیکر 271 کے مجموعی ووٹ کیساتھ صدر منتخب ہوئے، ایلگور نے 266 ووٹ حاصل کئے تھے اور مجموعی طور پہ ملک میں بش سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے امیدوار تھے۔
اس وقت اگر ایلگور چاہتے تو ان نتائج کو چیلنج کرسکتے تھے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا اور امریکہ کی عالمی برتری کو اپنی ذاتی انا پر فوقیت دیکر شکست تسلیم کی اور کورٹ میں کیس نہیں کیا۔ یہ کام صرف ایک اعلی ظرف والا سیاستدان ہی کرسکتا تھا۔
اب آئیے صدر ٹرمپ کے رویہ پر، جو بائیڈن ان سے 76 ووٹ کی واضح برتری سے جیت چکے ہیں لیکن ذرا ملاحظہ فرمائیں انکا رویہ کہ وہ اپنی شکست کو تسلیم کرنے کی بجائے اپنی انا کو تسکین پہچانے کی خاطر ہار ماننے سے انکاری ہیں۔
غلط معلومات اور خبریں پھیلانے کی وجہ سے ٹویٹر انکی لاتعداد ٹویٹس کو بلاک یا سینسر کرتا جا رہا ہے۔۔ اس طرح وہ صدر کے عہدے کے وقار کو مسلسل ٹھیس پہنچا رہے ہیں اور اپنے اوپر جگ ہنسائی الگ کرا رہے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ انکے اس رویے کی وجہ سے امریہ کی جمہوری روایات اور ساکھ دنیا بھر میں بر باد ہو رہی ہے۔
بلاشک و شبہ صدر ڈانلڈ ٹرمپ خود سری کی کیفیت میں ہیں، یہ وہ کیفیت ہوتی ہے جس میں انسان سچ اور حقائق کے برعکس یہ سمجھتا ہے کہ پوری دنیا غلط ہے اور بس وہ خود ہی درست بات کر رہا ہے۔
امریکی میڈیا اور صدر ٹرمپ کے مابین تعلقات بہت خراب رہے ہیں، اسی وجہ سے آج وہ میڈیا کے سپورٹ سے بھی محروم ہیں۔
سمجھدار سیاستدان اور نظریاتی لیڈر کبھی دشمن نہیں بناتا بلکہ دوست بناتا ہے اور اپنی ذاتی انا کو پس پشت ڈال کر صرف وہ کام کرتا ہے جو عوام کی فلاح اور ترقی کے لئے بہتر ہوتے ہیں۔