کورونا وائرس سے جنم لینے والے عالمی سطح کے معاشی بحران سے کویت بھی معاشی مسائل سے دوچار ہوا، اس دوران کویت میں کویتائزیشن یعنی سب سے پہلے کویت کا نعرہ بلند ہوا۔
کویتی حکام نے ابتدا میں کویتی شہریوں کو ملازمتوں پر رکھنے کا فیصلہ کیا تو پاکستانیوں سمیت دیگر ممالک سے آنے والوں کی نوکریاں متاثر ہونے کے خدشات سر اٹھانے لگے۔
پاکستانی حکام کے بروقت اقدام سے نہ صرف ملازمتیں محفوظ ہو گئی ہیں بلکہ ویزہ پابندیوں کے خاتمے کے بعد کویت میں نئے مواقع پیدا ہو گئے ہیں۔
پاکستان بیورو آف امیگریشن کے ڈی جی کا کہنا ہے کہ پاکستان کویتی حکام کو اس بات پر قائل کر رہا ہے کہ وہ اس عمل کے دوران پاکستانی ورکرز کو بے روزگار ہونے سے بچائیں۔
ڈی جی امیگریشن کا کہنا تھا کہ پاکستانی ہیلتھ ورکرز کی کویت روانگی سے پاکستانی کوششیں کامیاب ہوں گی۔
وزارت سمندر پار کے اعلیٰ حکام پرامید ہیں کہ کویت سے پاکستانی ورکرز کے متاثر ہونے کے امکانات زیادہ نہیں ہیں۔
اس حوالے سے حکومتی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ کویت اب پاکستان سے پیشہ ورانہ مہارت رکھنے والے ورکرز کی ڈیمانڈ کر رہا ہے۔
واضح رہے کورونا کے باعث کویت کو میڈیکل ہیلتھ کیئر کےشعبے سے وابستہ افراد کی ضرورت پڑی تو اس نے پاکستان کے ساتھ ایم او یو سائن کیا۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے سفیر سجاد حیدر کو ایم او یو پر دستخط کرنے کی ہدایت کر دی جس کے نتیجے میں 208 پاکستانی کویت جا چکے ہیں جبکہ مزید کچھ دنوں میں روانہ ہوں گے۔
پاکستانی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ بہت جلد کویت اور پاکستان کے درمیان ایک لاکھ افراد کو کویت بھیجنے کے حوالے سے ایم او یو پر دستخط کرنے والے ہیں۔
کویت میں پاکستانی ورکرز کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 10 سال کی پابندی کے باوجود کویت اب بھی پاکستانی ورکرز کا پانچواں بڑا میزبان ملک ہے۔
واضح رہے 2011 میں سکیورٹی خدشات کے باعث کویت نے پاکستانی ورکرز کیلئے ورک ویزہ پر پابندی عائد کر دی تھی جس کے بعد یہ سلسلہ رک گیا تھا اور نو برس کے دوران صرف تین ہزار 88 افراد ہی کویت جا سکے تھے۔