امریکی ڈالر کی گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے، آج کاروباری دن کے اختتام پر انٹربینک میں ڈالر 18 پیسے کم ہو کر 158 روپے 91 پیسے پر آگیا۔
اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 50 پیسے کم ہو کر 158 روپے 80 پیسے ہو گئی ہے۔
خیال رہے گزشتہ ایک ہفتے سے ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔
ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ ڈالر سستا ہونے سے بیرونی قرضوں میں 9 سو ارب روپے سے زائد کی کمی ہو چکی ہے۔
فاریکس ڈیلرز کا کہنا ہے کہ دو ماہ میں انٹر بینک میں ڈالر 8 روپے 93 پیسے سے زائد سستا ہو چکا ہے۔
ماہرین توقع ظاہر کر رہے ہیں کہ آئندہ سال جنوری تک امریکی کرنسی 150 روپے کے قریب پہنچ سکتی ہے۔
حکومت کی طرف سے فروری 2021 میں 2 ارب ڈالر کے سکوک و یوروبانڈز کے اجراء اور ملک میں بڑھتی ہوئی ترسیلات زر نے ڈالر کو مزید بے قدر کر دیا اور روپے کی قدر میں بحالی کا تسلسل جاری ہے۔
یاد رہے کورونا وائرس کے معاشی بحران کے دوران پاکستان میں ڈالر اپنی بلند ترین سطح تک ہہنچ گیا تھا۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 170 سے تجاوز کر گئی تھی۔
ڈالر کی قیمت میں کمی کی وجہ توقع سے زیادہ ترسیلات زر موصول ہونا بتائی جا رہی ہے۔
یاد رہے حکومت کی جانب سے حال ہی میں بیرون ممالک پاکستانیوں کیلئے روشن پاکستان ڈیجیٹل اکاؤنٹ متعارف کرایا گیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بیرون ممالک پاکستانیوں کی جانب سے اب بینکنگ چینلز کے ذریعے رقوم پاکستان بھیجی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے۔
واضح رہے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کو ریکارڈ 7 ارب ڈالرز سے زائد کے ترسیلات زر موصول ہوئے ہیں۔