نیویارک: ڈیموکریٹ امیدوار جوبائیڈن کے امریکی صدر منتخب ہونے کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ چین اور امریکا میں جاری ٹیکنالوجی جنگ اپنے اختتام کو پہنچ سکے گی۔
خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دور حکومت میں واشنگٹن اور بیجنگ کے تعلقات کے پیش نظر مختلف چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر پابندی لگائی تھی۔
امریکی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جوبائیڈن چین کے ساتھ تعمیری تعلقات قائم کرنا چاہیں گے۔
چین کی یونیورسٹی آف جیانگ کے ایک پروفیسر فینگ ژنگ ڈانگ کا کہنا ہے کہ جوبائیڈن کی وائٹ ہاوس آمد کے ساتھ ٹیکنالوجی کمپنیاں سکون کا سانس لیں سکیں گی۔
ان کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک میں مقابلے بازی مستقبل میں بھی ختم نہیں ہوگی، چین اور ریاست یائے متحدہ اگلی دہائیوں میں بھی حقیقی صلاحتیوں کے ساتھ ایک دوسرے کے مقابل آئیں گے۔
امریکا کے جیفریز گروپ کی تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ جوبائیڈن کی پالیسیوں کی ترجیحات میں چین کو اہم مقام نہیں مل سکے گا کیونکہ وہ سب سے پہلے ملکی معاملات پر توجہ دیں گے تاہم اس بات کا امکان ہے کہ امریکا میں چین پر لگائی گئی پابندیوں میں نرمی اختیار کی جائے گی۔
یاد رہے حالیہ عرصے میں امریکا کی جانب سے چین کی چند معروف کمپنیوں پر پابندی لگائی گئی تھی، ان کمپنیوں میں ملٹی نیشنل ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے، دی آنٹ گروپ اور ویڈیو ایپ ٹک ٹاک شامل تھیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے ٹینسینٹ نامی ٹیکنالوجی کمپنی کی میسجنگ ایپ وی چیٹ پے کو بھی فہرست میں شامل کر رکھا تھا۔
معاملے پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا تھا کہ وی چیٹ پے کے ذریعے پیسے بھیجنا اور موصول کرنا آسان بنا دیا گیا تھا۔ امریکی حکومت کو خدشہ تھا کہ میسجنگ ایپ کے ذریعے پیسے بھیجنا ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہو سکتا ہے۔
وی چیٹ دو سال قبل ایک ارب ماہانہ صارفین کے ساتھ معروف میسجنگ ایپس کی فہرست میں اپنا نام درج کرا چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ ساری پابندیاں امریکا چین میں جاری ٹیکنالوجی جنگ کا حصہ ہیں۔
دوسری جانب ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں اورنج اور پروکسی مس نے بیلجیئم میں فائیو نیٹ ورک قائم کرنے کے لیے نوکیا کا انتخاب کیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق امریکہ، چین تنازعات کے باعث بیلجیئم میں چینی کمپنی ہواوے کو فائیو جی نیٹ ورک قائم کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، حکام کا کہنا ہے کہ ایسا امریکی دباؤ کے تحت کیا گیا تھا۔