• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, اپریل 15, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

افغان خاتون پولیس افسر کو نوکری کرنے کے جرم میں اندھا کر دیا گیا

by sohail
نومبر 10, 2020
in تازہ ترین, دنیا
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

33 سالہ افغان دوشیزہ خاطرہ پر حملہ کرکے درندوں نے اسے اندھا کر دیا، خاطرہ پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ ڈیوٹی کے بعد پولیس سٹیشن سے باہر نکلیں۔
خاطرہ کا کہنا ہے کہ اس نے آخری مرتبہ تین موٹر سائیکل سواروں کو دیکھا، جنہوں نے اس پر فائرنگ کی اور چھری کے وار سے اس کی آنکھوں کو نقصان پہنچایا۔
خاطرہ کہتی ہیں کہ جب وہ ہسپتال میں جاگی تو آنکھوں کے آگے اندھیرا چھایا ہواتھا۔
خاطرہ نے ڈاکٹروں سے پوچھا کہ میں کیوں کچھ نہیں دیکھ پا رہی تو تو ڈاکٹروں نے مجھے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ زخموں کی وجہ سے آپ کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے۔
خاطرہ کہتی ہیں کہ اگرچہ ڈاکٹروں نے مجھے تسلی دی لیکن اس وقت میں جانتی تھی کہ میری آنکھیں مجھ سے چھین لی گئی ہیں۔
خاطرہ نے اس حملے میں نہ صرف اپنی آنکھیں گنوائیں بلکہ وہ خواب بھی چکنا چور ہو گیا جس کے حصول کیلئے اس نے جدوجہد کی تھی۔
حملے سے محض تین ماہ پہلے خاطرہ نے غزنی پولیس کی کرائم برانچ میں بطور افسر کام شروع کیا تھا۔
اس واقعے کے بعد خاطرہ کہتی ہیں کہ کاش! میں ایک سال تک پولیس میں کام کرتی، اگر یہ اس کے بعد بھی ہوتا تو یہ میرے لئے کم تکلیف دہ ہوتا، یہ واقعہ بہت جلد ہو گیا کیونکہ میں نے صرف تین ماہ ہی کام کیا۔
خاطرہ کا خواب تھا کہ وہ گھر سے باہر کام کرے، اس نے اپنے والد کو بھی راضی کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا، تاہم وہ اپنے شوہر کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔
خاطرہ کہتی ہیں کہ میں جب بھی ڈیوٹی پر جاتی تو میں دیکھتی کہ میرے والد میرے پیچھے آرہے ہیں، میرے والد نے قریبی علاقوں میں طالبان سے رابطہ شروع کیا اور ان سے کہا کہ اس کو نوکری پر جانے سے روکیں۔
خاطرہ کا کہنا ہے کہ ان کے والد نے ثبوت کے طور پر طالبان کو ان کے شناختی کارڈ کی کاپی مہیا کی کہ وہ پولیس کے لئے کام کرتی ہیں، جس دن حملہ ہوا سارا دن والد مجھ سے پوچھتے رہے کہ میں کہاں ہوں۔
خاطرہ اور مقامی حکام اس حملے کا الزام طالبان پر عائد کرتے ہیں تاہم طالبان اس میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہیں۔
خاطرہ کے والد کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جس سے تفتیش جاری ہے، جبکہ خاطرہ اپنے خاندان اور پانچ بچوں سمیت کابل میں روپوش ہے جہاں اس کا علاج جاری ہے۔

Tags: افغان خاتونافغانستانپولیس افسرخاطرہطالبانکابل
sohail

sohail

Next Post

میر شکیل الرحمان کی ضمانت کا تحریری حکمنامہ جاری

سعودی عرب کا جی 20 کانفرنس سے قبل جیل میں قید خاتون ایکٹوسٹ کو رہا کرنے پر غور

عالیہ ظفر: پی سی بی کے بورڈ آف گورنرز کی پہلی خاتون رکن تعینات

آئی جی سندھ کے معاملے پر قائم کی گئی انکوائری رپورٹ سامنے آ گئی

سعد رفیق کا سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے ہاتھ ملانے سے انکار، وجہ کیا بنی؟

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In