• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, اپریل 15, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

سعودی عرب کا جی 20 کانفرنس سے قبل جیل میں قید خاتون ایکٹوسٹ کو رہا کرنے پر غور

by sohail
نومبر 10, 2020
in انتخاب, تازہ ترین, دنیا
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

سعودی عرب جی 20 کانفرنس کی میزبانی سے پہلے قید کی گئی خاتون ایکٹوسٹس کی سزا معاف کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
برطانوی خبررساں ادارے دی گارڈین سے بات کرتے ہوئے سعودی سفیر خالد بن باندرا بن سلطان کا کہنا تھا کہ سعودی عدالتوں میں قصوروار ٹھہرائی گئی خواتین ڈرائیونگ کے حقوق کی وکالت کرنے علاوہ بھی کئی کاموں میں ملوث تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب کی وزارت خارجہ میں اس بات پر بحث چل رہی تھی کہ آیا اس اقدام سے ملک کو سیاسی سطح پر کتنا نقصان ہوا ہے۔
یاد رہے کہ 21 اور 22 نومبر کو ہونے والے جی 20 کے الاس سے قبل انسانی حقوق کے حوالے سے سعودی عرب کے سابقہ ریکارڈ پر تنقید کی جا رہی ہے جس میں سعودی عرب میں گرفتار کی گئی وہ خواتین بھی شامل ہیں جنہوں نے ڈرائیونگ کے حقوق کے لیے مہم چلائی تھی۔
جی 20 کے ہونے والے اجلاس کی ایک تھیم عورتوں کو بااختیار بنانا بھی ہے۔
یاد رہے 2018 میں ڈرائیونگ پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے پر سعودی عرب میں حقوق انسانی کی ایک سرگرم کارکن لوجین الہذلول سمیت دس خواتین کو گرفتار کیا گیا تھا۔
سعودی خبررساں ادارے کے مطابق ان خواتین پر ڈرائیونگ کی پابندی کے ساتھ ساتھ اپنی سرگرمیوں میں غیر ملکی عناصر کے ساتھ مبینہ رابطوں جیسے الزامات شامل تھے۔
سعودی میڈیا کے مطابق ان خواتین پر بعض حساس سرکاری عہدوں پر افراد کی بھرتی اور ملک سے باہر جارحانہ عناصر کی مالی معاونت کرنے جیسے الزامات بھی لگائے گئے تھے۔
سعودی میڈیا نے بتایا تھا کہ ان خواتین نے 44 اے کی خلاف ورزی کی تھی جس کے تحت ملزمان پر دہشت گردی کا الزام بھی عائد ہو سکتا ہے۔
سعودی قانون کے مطابق ایسے مجرموں کو تین سے 20 برس قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔
گزشتہ سال مارچ میں اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کی کونسل میں سعودی عرب کے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
36 ممالک کے مشترکہ بیان میں مطالبہ کیا گیاکہ ریاض لوین سمیت انسانی حقوق کے تمام کارکنان کو فوری آزاد کرے۔

Tags: اقوام متحدہجی 20خالد بن باندراسعودی عربلوجین الہذا لول
sohail

sohail

Next Post

عالیہ ظفر: پی سی بی کے بورڈ آف گورنرز کی پہلی خاتون رکن تعینات

آئی جی سندھ کے معاملے پر قائم کی گئی انکوائری رپورٹ سامنے آ گئی

سعد رفیق کا سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے ہاتھ ملانے سے انکار، وجہ کیا بنی؟

پابندیوں کے باوجود ٹک ٹاک کا منفرد اعزاز

لیڈی ڈیانا کے 25 سال پرانے انٹرویو پر تنازع، بی بی سی نے ایکشن لے لیا

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In