برطانوی شہزادے ولیم کی سابقہ اہلیہ لیڈی ڈیانا کے انتقال کے 23 برس بعد ان کے ایک معروف انٹرویو پر تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق لیڈی ڈیانا کے بھائی ارل چارلس اسپینسر نے برطانوی خبررساں ادارے بی بی سی پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے دھوکے سے ان کی بہن کا انٹرویو کیا تھا۔
1995 میں بی بی سی پر نشر کیے جانے والے لیڈی ڈیانا کے انٹرویو پینوراما نے عالمگیر شہرت حاصل کی تھی۔
ارل چارلس اسپینسر نے حال ہی میں برطانوی چینل 4 پر جاری کی جانے والی لیڈی ڈیانا کی نئی دستاویزی فلم میں دعویٰ کیا کہ 25 سال قبل بی بی سی کے صحافی بشیر مارٹن نے دھوکے سے ان کی بہن کا انٹرویو کیا۔
ارل چارلس کا کہنا ہے کہ صحافی نے انہیں بلیک میل اور غلط دستاویز دکھا کر انٹرویو دینے پر مجبور کیا تھا۔
ارل چارلس اسپینسر کے مطابق صحافی نے انہیں جعلی بینک دستاویزات اور شاہی خاندان کے جعلی کاغذات دکھا کر انٹرویو کی درخواست کی تھی جس پر انہوں نے صحافی کو اپنی بہن سے ملوایا۔
لیڈی ڈیانا کے بھائی نے دعوی کیا ہے کہ انہیں انٹرویو کا معاوضہ بھی نہیں کیا گیا جب کہ انٹرویو کو دنیا بھر میں نشر کر کے کروڑوں کمائے گئے تھے۔
ان کے بھائی کی جانب سے کیے گئے انکشافات کے بعد بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا ہے کہ 25 سال پرانے انٹرویو پر مکمل اور آزادانہ تفتیش کرکے ذمہ داران کو سامنے لایا جائے۔
دوسری جانب لیڈی ڈیانا کے بھائی نے مطالبہ کیا ہے کہ بی بی سی ان کی بہن کے انٹرویو سے ہونے والی کمائی سے ان سماجی اداروں کو حصہ دے جو ان کی بہن کے نام پر چل رہے ہیں۔
یاد رہے لیڈی ڈیانا کے کیے گئے پینوراما انٹرویو کو صرف برطانیہ میں دو کروڑ مرتبہ دیکھا گیا۔
اس انٹرویو کو ناصرف ایوارڈ سے نوازا گیا بلکہ انٹرویو لینے والے صحافی کو دنیا بھر میں جانا جانے لگا۔
انٹرویو میں لیڈی ڈیانا نے اپنی نجی زندگی پر کھل کر بات کی تھی، انہوں نے دوران انٹرویو اپنے شوہر پرنس ولیم کے افیئر کا بھی ذکر کیا۔
لیڈی ڈیانا نے انکشاف کیا تھا کہ ان کی شادی ایک مرد اور دو عورتوں پر مشتمل تھی۔
انہوں نے کمیلا نامی خاتون کا ذکر کیا جو پرنس ولیم کی موجودہ اہلیہ ہیں۔
بی بی سی کی جانب سے یہ انٹرویو اس وقت لیا گیا تھا کہ جب لیڈی ڈیانا اور ان کے شوہر پرنس ولیم میں علیحدگی ہو چکی تھی۔
انٹرویو کے صرف تین سال بعد 1997 میں لیڈی ڈیانا ایک کار حادثے میں چل بسی تھی۔
برطانوی میڈیا کے مطابق ان کی آخری رسومات کی ویڈیو کو دنیا بھر میں ڈھائی ارب سے زائد لوگوں نے دیکھا تھا۔