• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
پیر, اپریل 20, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

کیا آئی جی سندھ کے معاملے پر پاک فوج کی انکوائری رپورٹ ایک کوراپ ہے؟ رؤف کلاسرا کا تجزیہ

by sohail
نومبر 10, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

سینئر صحافی اور اینکر رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ کراچی کے واقعہ پر پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے حکم پر ہونے والی انکوائری میں فوجی افسروں کو تو ان کی ذمہ داری سے ہٹا دیا گیا ہے مگر پی ٹی آئی کے ان اہم افراد کے خلاف کیا کارروائی ہو گی جو شاید اس معاملے پر بہت متحرک تھے اور دباؤ ڈال رہے تھے۔

اپنے نئے وی لاگ میں ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل یہ خبریں آ رہی تھیں کہ آئی جی سندھ مشتاق مہر کو منا لیا گیا ہے اور وہ اپنے ساتھ ہونے والے مبینہ سلوک کے معاملے کو ختم کرنے پر تیار ہو گئے ہیں چنانچہ آرمی چیف کے حکم پر ہونے والی انکوائری رپورٹ دبا دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر نون لیگ اور میڈیا کی جانب سے دباؤ آ رہا تھا، شاید اسی وجہ سے رپورٹ کو پبلک کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

نواز شریف کا جنرل (ر) آصف غفور سے بدلہ

رؤف کلاسرا نے بتایا کہ آج نوازشریف نے ایک ٹویٹ میں انکوائری کو کوراپ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انکوائری رپورٹ میں جونئیر افسروں کو قربانی کا بکرا بنا کر اصلی مجرموں کو بچا لیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ نوازشریف نے اپنے ٹویٹ کے آخر میں ‘رپورٹ ریجیکٹڈ’ کا معنی خیز فقرہ لکھا ہے۔

رؤف کلاسرا نے ڈان لیکس پر ہونے والی انکوائری رپورٹ یاد دلائی اور کہا کہ نوازشریف کے دور میں اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل آصف غفور نے بھی اس رپورٹ کے متعلق یہی فقرہ ٹویٹ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ آئی ایس پی آر نے یہ ٹویٹ ڈیلیٹ کر دی تھی مگر نوازشریف نے اس بات کو دل میں رکھا اور آج جنرل (ر) آصف غفور سے بدلہ لے لیا۔

کراچی واقعے کی انکوائری رپورٹ اصل حقائق پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش ہے۔ خود کو بچانے کے لئے جونیئر افسران کو قربان کرنے کی یہ روش قابلِ مذمت ہے۔ رپورٹ ریجیکٹڈ!

— Nawaz Sharif (@NawazSharifMNS) November 10, 2020

ان کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ سے یہ بات تو سامنے آ جاتی ہے کہ آئی جی سندھ سے زبردستی کام کرایا گیا اور پرچے درج کرائے گئے جس کے بعد کیپٹن صفدر کو گرفتار کیا گیا۔

رپورٹ کا سب سے خطرناک پہلو

رؤف کلاسرا کے مطابق اس رپورٹ کا سب سے اہم اور خطرناک پہلو یہ سوال  ہے کہ جن افسروں نے یہ کام کیا انہیں اس کے لیے حکم کہاں سے آیا تھا؟

انہوں نے کہا کہ اگرچہ رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ قائداعظم کے مزار کی بیحرمتی کے باعث قانونی کارروائی کے لیے عوامی دباؤ تھا لیکن یہ بات ہضم نہیں ہو رہی۔

انہوں نے کہا کہ نہ ہی عوام نے رینجرز کے دفتر کے باہر مظاہرے شروع کر دیے تھے اور نہ ہی آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈر کو متحرک کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ دباؤ تو پیپلزپارٹی پر آ رہا تھا جس کی سندھ میں حکومت ہے یا پھر صوبے کی پولیس ہر کارروائی کے لیے پریشر تھا۔ یہی وجہ ہے کہ نوازشریف کے اس رپورٹ کو کوراپ قرار دینے میں وزن نظر آ رہا ہے۔

انہوں نے کہا ہو سکتا ہے اس انکوائری کا دائرہ ان افسروں تک محدود رکھا گیا ہو جنہوں نے براہ راست یہ کام کیا تھا لیکن بظاہر یوں لگتا ہے کہ اس کے پیچھے سیاستدان بھی ملوث تھے۔

دو اہم کردار

رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں سیاست دانوں کی سطح پر دو اہم کردار سامنے آتے ہیں جو قائداعظم کے مزار پر نعرے لگنے پر بہت متحرک ہو گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ان میں ایک تو گورنر سندھ عمران اسماعیل ہیں، ان کے انٹرویوز بھی ہیں جن میں انہوں نے کہا کہ وہ آئی جی سے بھی رابطہ کر رہے ہیں اور دیگر اداروں کے ساتھ بھی۔

ان کے مطابق شاید عوامی دباؤ گورنر سندھ کا تھا جن کا نام اس انکوائری میں کہیں نہیں آ رہا۔

رؤف کلاسرا نے کہا کہ اس معاملے کا دوسرا اہم کردار وفاقی وزیر علی زیدی ہیں جنہوں نے ان دنوں میں بہت ٹویٹس کیے اور وہ سنبھالے نہیں جا رہے تھے۔

سینئر صحافی نے علی زیدی کا ٹویٹ یاد دلایا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جن لوگوں نے یہ حرکت کی ہے انہیں اس کی سزا ملے گی۔ وہ ایف آئی آر درج کرانے کے لیے رات کو تھانہ بریگیڈ بھی پہنچ گئے جہاں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا تھا کہ ہم اس قسم کی حرکت نہیں برداشت کریں گے۔

رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں پاکستان تحریک انصاف واضح طور پر ایک پارٹی بن کر سامنے آئی تھی مگر انکوائری میں ان کا نام کہیں نہیں نظر آ رہا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اپنے ایک انٹرویو میں اس سارے معاملے کو ڈرامہ قرار دیتے ہوئے رد کر دیا، شاید وہ جانتے تھے کہ ان کی اپنی پارٹی کے لوگ اس میں ملوث تھے۔

سب سے بڑا سوال

رؤف کلاسرا نے یہاں ایک سوال سامنے رکھا ہے کہ پاکستان کا وزیراعظم آئی جی کے مبینہ اغوا کے معاملے کو ایک ڈرامہ کہتا ہے اور آرمی چیف کی انکوائری رپورٹ اسے درست قرار دیتی ہے تو اب عوام کس کی بات پر یقیں کریں؟

ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں فوجی اور سویلین قیادت کے درمیان ایک صفحے والا معاملہ نہیں ہے کیونکہ دونوں دو مختلف باتیں کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ فوجی افسروں کے خلاف تو کارروائی ہو گئی، اب ان سیاسی لوگوں کے خلاف کب کارروائی ہو گی جنہوں نے یہ سب کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔

رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ عمران خان اپنے لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرنے دیں گے کیونکہ وہ تو اسے ایک ڈرامہ سمجھتے ہیں۔

Tags: آئی جی سندھرؤف کلاسرارؤف کلاسرا کا وی لاگعلی زیدیعمران اسماعیل
sohail

sohail

Next Post

وفاقی کابینہ اجلاس کی اندرونی کہانی، حکومت نے کسانوں کے ساتھ ہاتھ کردیا

منی لانڈرنگ ریفرنس، شہباز شریف پر فرد جرم عائد

پنجابیوں، سرائیکیوں کو قتل کرنے والے بلوچ نوازشریف کے ساتھ بیٹھے ہیں، ثنااللہ زہری

عمرہ زائرین کیلئے پی آئی اے کے نئے کرائے کیا ہوں گے؟

کورونا کی شدت، سینما، تھیٹر، مزار بند، تعلیمی اداروں میں چھٹیوں کا امکان

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In