سینئر صحافی اور اینکر رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ کراچی کے واقعہ پر پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے حکم پر ہونے والی انکوائری میں فوجی افسروں کو تو ان کی ذمہ داری سے ہٹا دیا گیا ہے مگر پی ٹی آئی کے ان اہم افراد کے خلاف کیا کارروائی ہو گی جو شاید اس معاملے پر بہت متحرک تھے اور دباؤ ڈال رہے تھے۔
اپنے نئے وی لاگ میں ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل یہ خبریں آ رہی تھیں کہ آئی جی سندھ مشتاق مہر کو منا لیا گیا ہے اور وہ اپنے ساتھ ہونے والے مبینہ سلوک کے معاملے کو ختم کرنے پر تیار ہو گئے ہیں چنانچہ آرمی چیف کے حکم پر ہونے والی انکوائری رپورٹ دبا دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر نون لیگ اور میڈیا کی جانب سے دباؤ آ رہا تھا، شاید اسی وجہ سے رپورٹ کو پبلک کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
نواز شریف کا جنرل (ر) آصف غفور سے بدلہ
رؤف کلاسرا نے بتایا کہ آج نوازشریف نے ایک ٹویٹ میں انکوائری کو کوراپ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انکوائری رپورٹ میں جونئیر افسروں کو قربانی کا بکرا بنا کر اصلی مجرموں کو بچا لیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ نوازشریف نے اپنے ٹویٹ کے آخر میں ‘رپورٹ ریجیکٹڈ’ کا معنی خیز فقرہ لکھا ہے۔
رؤف کلاسرا نے ڈان لیکس پر ہونے والی انکوائری رپورٹ یاد دلائی اور کہا کہ نوازشریف کے دور میں اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل آصف غفور نے بھی اس رپورٹ کے متعلق یہی فقرہ ٹویٹ کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ آئی ایس پی آر نے یہ ٹویٹ ڈیلیٹ کر دی تھی مگر نوازشریف نے اس بات کو دل میں رکھا اور آج جنرل (ر) آصف غفور سے بدلہ لے لیا۔
ان کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ سے یہ بات تو سامنے آ جاتی ہے کہ آئی جی سندھ سے زبردستی کام کرایا گیا اور پرچے درج کرائے گئے جس کے بعد کیپٹن صفدر کو گرفتار کیا گیا۔
رپورٹ کا سب سے خطرناک پہلو
رؤف کلاسرا کے مطابق اس رپورٹ کا سب سے اہم اور خطرناک پہلو یہ سوال ہے کہ جن افسروں نے یہ کام کیا انہیں اس کے لیے حکم کہاں سے آیا تھا؟
انہوں نے کہا کہ اگرچہ رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ قائداعظم کے مزار کی بیحرمتی کے باعث قانونی کارروائی کے لیے عوامی دباؤ تھا لیکن یہ بات ہضم نہیں ہو رہی۔
انہوں نے کہا کہ نہ ہی عوام نے رینجرز کے دفتر کے باہر مظاہرے شروع کر دیے تھے اور نہ ہی آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈر کو متحرک کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ دباؤ تو پیپلزپارٹی پر آ رہا تھا جس کی سندھ میں حکومت ہے یا پھر صوبے کی پولیس ہر کارروائی کے لیے پریشر تھا۔ یہی وجہ ہے کہ نوازشریف کے اس رپورٹ کو کوراپ قرار دینے میں وزن نظر آ رہا ہے۔
انہوں نے کہا ہو سکتا ہے اس انکوائری کا دائرہ ان افسروں تک محدود رکھا گیا ہو جنہوں نے براہ راست یہ کام کیا تھا لیکن بظاہر یوں لگتا ہے کہ اس کے پیچھے سیاستدان بھی ملوث تھے۔
دو اہم کردار
رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں سیاست دانوں کی سطح پر دو اہم کردار سامنے آتے ہیں جو قائداعظم کے مزار پر نعرے لگنے پر بہت متحرک ہو گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ان میں ایک تو گورنر سندھ عمران اسماعیل ہیں، ان کے انٹرویوز بھی ہیں جن میں انہوں نے کہا کہ وہ آئی جی سے بھی رابطہ کر رہے ہیں اور دیگر اداروں کے ساتھ بھی۔
ان کے مطابق شاید عوامی دباؤ گورنر سندھ کا تھا جن کا نام اس انکوائری میں کہیں نہیں آ رہا۔
رؤف کلاسرا نے کہا کہ اس معاملے کا دوسرا اہم کردار وفاقی وزیر علی زیدی ہیں جنہوں نے ان دنوں میں بہت ٹویٹس کیے اور وہ سنبھالے نہیں جا رہے تھے۔
سینئر صحافی نے علی زیدی کا ٹویٹ یاد دلایا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جن لوگوں نے یہ حرکت کی ہے انہیں اس کی سزا ملے گی۔ وہ ایف آئی آر درج کرانے کے لیے رات کو تھانہ بریگیڈ بھی پہنچ گئے جہاں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا تھا کہ ہم اس قسم کی حرکت نہیں برداشت کریں گے۔
رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں پاکستان تحریک انصاف واضح طور پر ایک پارٹی بن کر سامنے آئی تھی مگر انکوائری میں ان کا نام کہیں نہیں نظر آ رہا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اپنے ایک انٹرویو میں اس سارے معاملے کو ڈرامہ قرار دیتے ہوئے رد کر دیا، شاید وہ جانتے تھے کہ ان کی اپنی پارٹی کے لوگ اس میں ملوث تھے۔
سب سے بڑا سوال
رؤف کلاسرا نے یہاں ایک سوال سامنے رکھا ہے کہ پاکستان کا وزیراعظم آئی جی کے مبینہ اغوا کے معاملے کو ایک ڈرامہ کہتا ہے اور آرمی چیف کی انکوائری رپورٹ اسے درست قرار دیتی ہے تو اب عوام کس کی بات پر یقیں کریں؟
ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں فوجی اور سویلین قیادت کے درمیان ایک صفحے والا معاملہ نہیں ہے کیونکہ دونوں دو مختلف باتیں کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ فوجی افسروں کے خلاف تو کارروائی ہو گئی، اب ان سیاسی لوگوں کے خلاف کب کارروائی ہو گی جنہوں نے یہ سب کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔
رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ عمران خان اپنے لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرنے دیں گے کیونکہ وہ تو اسے ایک ڈرامہ سمجھتے ہیں۔