اسلام آباد: نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (این سی او سی) نے کورونا کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر وفاقی حکومت سے ہائی رسک ایریاز میں پابندیاں سخت کرنے کی سفارش کر دی ہے۔
وفاقی وزیراسد عمر کی زیر صدارت این سی او سی کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا جس میں ملک میں کورونا کیسزاور ایس او پیز پر عملدرآمد کی صورتحال پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں نیشنل کوآرڈینیٹر این سی او سی لیفٹیننٹ جنرل حمود الزمان، وزیر تعلیم شفقت محمود اور معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان نے شرکت کی۔
تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز نے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس میں صوبائی چیف سیکرٹریز نے تعلیمی اداروں میں کورونا کیسز اور ایس و پیز کی صورتحال پر بریفنگ دی۔
صوبائی چیف سیکرٹریز کی جانب سے صوبوں کے متاثرہ علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاون کے بعد کی صورتحال پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
صوبائی چیف سیکرٹریز کی بریفنگ کے بعد این سی او سی نے ہائی رسک ایریا میں پابندیاں سخت کرنے اور بڑی عوامی تقریبات پر پابندی کی بھی سفارش کر دی ہے۔
این سی او سی نے ہوٹلز میں رات 10 بجے تک آوٹ ڈور کھانا کھانے کی اجازت دینے کی تجویز پیش کی ہے۔
اجلاس میں سینما ہاؤسز، تھیٹرز اور مزارات کو فوری طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
این سی او سی نے کہا ہے کہ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کے بعد عملدرآمد کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
کورونا کی لہر میں اضافے کے بعد ملک میں ہونے والے بڑے اجتماعات پر بھی پابندی کی تجویز دی گئی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ این سی او سی شادی کی تقریبات سے متعلق گائیڈ لائن جاری کر رہی ہے جس کے مطابق 20 نومبر کے بعد کھلے علاقے میں شادی کی تقریب میں 500 افراد کی شرکت کی اجازت دی جائے گی۔
صوبائی اور وفاقی وزرا نے این سی او سی کو بتایا کہ حالیہ عرصے میں کورونا کے کیسز میں تین گنا اضافہ ہوا ہےاور تعلیمی اداروں میں مثبت کیسز سامنے آرہے ہیں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 16 نومبر کے بعد وفاقی وزیر تعلیم صوبائی وزرائے تعلیم کے ساتھ این سی او سی میں میٹنگ کریں گے جس میں تعلیمی اداروں میں کورونا کے بڑھتے کیسز کے خلاف حکمت عملی تیار کی جائے گی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں کورونا کے کیسز کے پیش نظر موسم سرما کی چھٹیوں کا اعلان جلد کیا جائے اور بچوں کو معمول سے زیادہ چھٹیاں دی جائیں تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔