سوشل میڈیا صارفین کے شدید ردعمل کے بعد امریکی سفارتخانے نے ن لیگی رہنما احسن اقبال کی تضحیک آمیز ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرنے پر معافی مانگ لی ہے۔
تفصیلات کے مطابق احسن اقبال نے واشنگٹن پوسٹ کی ایک خبر کو ٹویٹ کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ٹرمپ کی شکست عوامی جذبات ابھار کر سستی سیاست کرنے والوں اور آمروں کے لیے بڑا جھٹکا ہے۔
لیگی رہنما نے اس خبر کو ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ایسا ہی ایک حکمران پاکستان میں بھی موجود ہے جسے جلد ہی اقتدار سے باہر کر دیا جائے گا۔
امریکی سفارتخانے احسن اقبال کی اس ٹویٹ کو ری ٹویٹ کر دیا جس پر صارفین کا شدید ردعمل آیا اور انہوں نے اسے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دے دیا۔
بعد ازاں امریکی سفارتخانے نے 15 گھنٹوں بعد ایک اور ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ اسلام آباد میں امریکی ایمبیسی کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بغیر اجازت کے استعمال کیا گیا۔
ٹویٹ میں مزید کہا گیا کہ سفارتخانہ سیاسی پیغامات کو ری ٹویٹ کرنے کی اجازت نہیں دیتا، اس حوالے سے پیدا ہونے والی کنفیوژن پر سفارتخانہ معافی مانگتا ہے۔
تاہم صارفین نے اس بہانے کو رد کرتے ہوئے کہا کہ اسے کسی صورت تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ اسقدر دیر سے پیش کی جانے والی وضاحت کافی نہیں ہے، اکاؤنٹ واضح طور پر ہیک نہیں ہوا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی نے بغیر اجازت اس اکاؤنٹ کو استعمال کیا ہے، یہ بات قابل قبول نہیں ہے کہ امریکی سفارتخانے میں کام کرنے والا کوئی شخص ایک سیاسی جماعت کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہا ہے۔
ایک اور صارف ثمینہ رشید نے کہا کہ اس بات پر یقین نہیں کیا جا سکتا، اگر ایسا ہے تو یہ بہت بڑی خبر ہے۔
حسان بلوچ نے ٹویٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ساری دنیا کے ٹھیکیدار بنے پھرتے ہیں اور حفاظت اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کی بھی نہیں کر سکتے۔