پاکستان اور روس کے درمیان گیس پائپ لائن معاہدے کیلئے روسی وفد کا دورہ پاکستان آئندہ ہفتے متوقع ہے جس میں 2 ارب ڈالر کے منصوبے پر کام شروع کرنے کو حتمی شکل دی جائے گی۔
یاد رہے نارتھ ساؤتھ پائپ لائن کے ذریعے گیس پاکستان کے ساحلی علاقوں سے شمال میں صنعتی علاقوں تک پہنچانے کے منصوبے میں معاوضے کے تنازعات اور روسی کمپنی روسٹیک پر امریکی پابندیوں کی وجہ سے کام روک دیا گیا تھا۔
پاکستان کی وزارت توانائی کے ترجمان ساجد محمود قاضی کا کہنا ہے کہ روس کے ساتھ بات چیت سنجیدہ مراحل میں ہے اور وفد عنقریب پاکستان آ رہا ہے۔
ماسکو میں پاکستانی سفارت خانے کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ روس کا تکنیکی وفد 16 سے 18 نومبر تک پاکستان میں ہو گا جو پاکستانی حکام کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبے پر بات کرے گا۔
واضح رہے 11 سو کلو میٹر طویل گیس پائپ لائن منصوبے کی ابتدائی لاگت کا تخمینہ 2 ارب ڈالر لگایا گیا تھا، تکمیل کے بعد گیس پائپ لائن منصوبے کے ذریعے سالانہ 4۔12 ارب مکعب فٹ گیس کراچی سے لاہور پہنچانے کی گنجائش ہے۔
وزارت توانائی کے ترجمان نے منصوبے کی درست لاگت بتانے سے انکار کر دیا ہے ان کا کہنا تھا کہ گیس پائپ لائن کا ڈیزائن تبدیل کر دیا گیا ہے۔
وزارت توانائی کے ترجمان کے مطابق جو پائپ لائن ابتدا میں ڈیزائن کی گئی تھی اس کا قطر 42 انچ تھا جبکہ اب 48 یا 56 انچ قطر والی ہو گی اس کے کمپریسر کے سائز اور تکنیکی ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے نیا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
گیس پائپ لائن کے تبدیل شدہ ڈیزائن کے بعد منصوبے کی لاگت کا نیا تخمینہ دو سے تین ارب ڈالر کے درمیان ہو سکتا ہے۔
وزارت توانائی کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت اگلے سال سے پہلے روس کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبے میں پیش رفت چاہتی ہے۔