لندن: سابق وزیر اعظم نواز شریف کے کورونا کی وجہ سے ملتوی کیے گئے طبی معائنے کا دوبارہ سے آغاز کر دیا گیا ہے۔
لندن کے ایک کلینک میں ڈاکٹرز نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے علاج کا دوبارہ سے آغاز کریں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نواز شریف نے میریلیبون میں دی فزیشنز کلینک (ٹی پی سی) کا دورہ کیا جہاں انہوں نے اسپیشلسٹس سے اپنے معائنے سے متعلق مشاورت کی۔
خاندانی ذرائع کے مطابق ڈاکٹرز سے ملاقات نواز شریف کے دل کے امور کی تشخیص کا آغاز کیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق آئندہ چار ہفتوں میں مزید جائزے اور تجزیے کی توقع ہے۔
نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا ان کے علاج کے اگلے مرحلے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے تشخیص کی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے بارے میں آئندہ فیصلہ یا تو نقصان دہ یا غیرنقصان دے ہو سکتا ہے۔
انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ نواز شریف چلتے وقت انجائنا کا درد محسوس کرتے ہیں۔
یاد رہے سابق وزیراعظم نواز شریف طبی بنیادوں پر 2019 سے لندن میں علاج کے لیے موجود ہیں۔
ان کے معالجین نے بتایا تھا کہ وہ دل کی بیماری میں مبتلا ہیں، ڈاکٹرز کے مطابق ان میں پلیٹلٹس کی تعداد خطرناک حد تک کم ہو چکی تھی۔
رواں سال ستمبر میں لاہور ہائی کورٹ میں ان کی قانونی ٹیم کی جانب سے طبی رپورٹ بھی جمع کرائی گئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ ذیابطیس، ہائی بلڈ پریشر اور گردے اور دل کی بیماریوں میں مبتلا ہونے کی وجہ سے انہیں ڈاکٹرز نے سفر نا کرنے کی ہدایات کی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کورونا کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر بھی ڈاکٹرز نے انہیں سفر سے منع کیا ہے۔