نیویارک: امریکی انتخابات میں صدر منتخب ہونے والے ڈیموکریٹ امیدوار جوبائیڈن کے لیے دنیا بھر سے مبارکباد اور نیک خواہشات کے پیغامات موصول ہورہے ہیں لیکن ان میں سے بیشتر پیغامات کو جوبائیڈن تک نہیں پہنچنے دیا جا رہا۔
امریکی میڈیا کے مطابق ریاست کے اعلی حکام سے دعوی کیا ہے کہ جوبائیڈن کی فتح سے انکاری ٹرمپ انتظامیہ عالمی رہنماوں کے پیغامات کو ان تک نہیں پہنچنے دے رہی۔
امریکی میڈیا کے مطابق اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نومنتخب امریکی صدر کو عالمی دنیا سے رابطے کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کا پابند ہوتا ہے اسی لیے عالمی رہنماوں نے انتخابات میں جیت کے بعد جوبائیڈن کے لیے نیک خواہشات بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔
جوبائیڈن کی فتح کو دھاندلی اور فراڈ قرار دینے والے ٹرمپ نے درجنوں پیغام تک جوبائیڈن کو رسائی نہیں دینے دی۔
امریکی میڈیا کے مطابق نومنتخب صدر جوبائیڈن کی ٹیم مسلسل عالمی رہنماوں کے ساتھ رابطے میں ہے اسی دوران جوبائیڈن نے جرمنی کی انجیلا مارکل، کینیڈا کے جسٹن ٹروڈو سمیت کئی رہنماوں سے فون پر بات چیت کی ہے۔
جوبائیڈن کی ٹیم لوجسٹک اور ٹرانسلیشن سپورٹ کے بغیر کام کرنے پر مجبور ہے، یہ مدد اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ مہیا کرنے کا پابند ہوتا ہے۔
معاملے پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ جوبائیڈن کی ٹیم اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ سے مدد لے گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جوبائیڈن کو انٹیلی جنس اداروں کی جانے سے بریفنگ بھی نہیں دی گئی، یہ صدر کو روزانہ کی بنیاد پر دی جانے والی بریفنگ ہے جسے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے بلاک کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ جوبائیڈن کے حلف لینے والے دن سے قبل ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے مشکلات کھڑی کی جاتی رہیں گی۔
کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی رہنماوں کی جانب سے موجود الیکٹڈ صدر کو کی جانے والی فون کالز خفیہ نہیں ہیں، حلف لینے سے قبل عبوری پیریڈ کے دوران عالمی رہنماوں سے کیا جانے والا رابطہ محفوظ لائنز کے ذریعے نہیں کیا جاتا۔