امریکی تاریخ میں حال ہی میں ہونے والے صدارتی انتخابات ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے جن میں ہارنے والا امیدوار وائٹ ہاؤس کو چھوڑنے پر تیار نہیں ہے جبکہ ملک کے مختلف حصوں میں دنگے فساد کی اطلاعات بھی آ رہی ہیں۔۔
صدر ٹرمپ خود کو فاتح قرار دے رہے ہیں اور عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ وہ مسلسل انتظامی فیصلے کر رہے ہیں جو کہ نئے صدر کا حق ہے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کے سائبر سکیورٹی کے انچارج کو انتخابات سے متعلق غلط معلومات دینے اور سٹیمپنگ آؤٹ کا الزام لگاتے ہوئے عہدے سے فارغ کر دیا ہے۔
مسٹر ویئر جو کہ سائبر سکیورٹی کے ادارے میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر تھے، وائٹ ہاؤس کی طرف سے موصول ہونے والے پیغام کے مطابق اپنے عہدے سے مستعفی ہو کر گھر چلے جائیں گے۔
مسٹر ویئر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھ سے وائٹ ہاؤس کی طرف سے دباؤ کا سامنا تھا لہٰذا میں نے استعفا دے کر اپنے عہدے کی ذمہ داریوں سے آزادی حاصل کر لی ہے۔
صدر ٹرمپ نے چند روز پہلے دفاع کے محکمے سے متعلق ایک اعلیٰ عہدیدار کو بھی ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا، یہ بات مسلسل واضح ہو رہی ہے کہ وہ اپنی ہار کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
ہائی آفیشلز کو نوکری سے فارغ کرنے کا شوق ڈونلڈ ٹرمپ کو پہلے دن سے رہا ہے کیونکہ جس دن انہوں نے وائٹ ہاؤس میں بسیرا کیا تھااسی دن سے کئی نامی گرامی اور تجربہ کار لوگوں کو گھر کی راہ دکھائی تھی۔
ان کا یہی شوق الیکشن میں شکست کے بعد بھی جاری ہے اور وہ ایک کے بعد دوسرے عہدیدار کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک الیکشن کے نتائج ماننے سے انکار کر رکھا ہے اور ان ہی کی درخواست پر ورجینیا سمیت دو اور ریاستوں میں دوبارہ گنتی کا سلسلہ بھی چل رہا ہے۔