سابق وزیراعظم نواز شریف نے کراچی واقعے کی انکوائری رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے فوج کے چند لوگوں کو لاقانونیت اور آئین شکنی کا ذمہ دار قرار دے دیا۔
سوات کے جلسے میں ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب میں عوام کی مشکلات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس ترقی کی بنیاد مسلم لیگ ن نے ڈالی تھی وہ سلسلہ رک گیا ہے۔
مسلم لیگ ن کے قائد نے کہا کہ ہماری حکومت نے عوام کیلئے بہت کچھ کیا، جب ترقی کے کام ہوتے ہیں تو روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں، خوشحالی آتی ہے، کسان کی حالت بہتر ہوتی ہے جو ہم نے کر کے دکھایا۔
نواز شریف نے اپنے دور حکومت کے آغاز میں طویل لوڈشیڈنگ اور دہشتگردی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب ہماری حکومت ختم ہوئی تو ہم نے بحرانوں پر قابو پا لیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ہر اعتبار سے تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے، مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دوائیاں بھی لوگوں کی پہنچ سے دور ہو گئی ہیں اور لوگوں کو فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ روٹی خریدیں یا دوائی خریدیں۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ افغانستان میں 40 سال کی خانہ جنگی کے باوجود ان کی کرنسی بہتر ہے مگر پاکستانی روپیہ خطے میں سب سے کمزور ہو گیا ہے۔
سابق وزیراعظم نے کسی کا نام لئے بغیر کہا کہ یہ سارے بحران اس لئے ہیں کہ ایک نااہل، بدعنوان اور کٹھ پتلی ٹولہ مسلط کر دیا گیا ہے جو عوام کو نہیں بلکہ کسی اور کو جوابدہ ہے۔
‘نواز شریف سے عداوت کی سزا قوم کو کیوں دی گئی؟‘
مسلم لیگ ن کے قائد نے کہا کہ میرے ساتھ عداوت کی بنیاد پر جس طرح اس ملک کے ساتھ زیادتی کی گئی، 22 کروڑ عوام کو ظلم کا نشانہ بنایا گیا اس کا جواب کون دے گا۔
نواز شریف نے آرمی چیف اور جنرل فیض حمید کا نام لیتے ہوئے کہا کہ پھر کہتے ہیں کہ ہمارا نام کیوں لیتا ہے تو پھر میں کس کا نام لوں، چند آدمیوں کی لاقانونیت اور آئین شکنیوں کا الزام پوری فوج کو نہیں دے سکتا اور کیوں دوں۔
انہوں نے کہا کہ میرا تو جرم تھا کہ میں پاکستان کے عوام کی حکمرانی، آئین، جمہوریت کے اصولوں اور اپنے حدود کے اندر رہنے کی بات کرتا تھا لیکن عوام کا کیا قصور تھا انہیں غربت اور مہنگائی میں کیوں دھکیلا گیا۔
اپنی تقریر میں انہوں نے کہا کہ عوام کا عزت سے رہنا کیوں مشکل بنا دیا گیا، اس کا جواب میں صرف عمران خان سے نہیں مانگتا بلکہ اس کو لانے والوں سے مانگتا ہوں۔
‘حکومت کے اوپر ایک حکومت قائم ہے‘
نواز شریف نے کراچی واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس شرم ناک رویے پر سندھ پولیس نے اپنا ردعمل دیا، اس پر جنرل باجوہ نے خود انکوائری کرانے کا اعلان کیا، اب ایک پریس ریلیز جاری کی جاتی ہے کہ انکوائری مکمل ہونے پر ذمہ داروں کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہاں حکومت کے اوپر ایک حکومت اور ریاست کے اوپر ایک ریاست قائم ہے، کراچی واقعے نے میرے مؤقف کو سچا ثابت کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پولیس بے بنیاد اور غیر قانونی ایف آئی آر درج کرانے سے انکار کر دے تو کسی ادارے کو یہ حق ہے کہ وہ بندوق کے زور پر آئی جی اور ایڈیشنل آئی جی کو اغوا کر لے، کیا کسی مہذب ملک میں ایسا ہو سکتا ہے۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ چادر اور چار دیواری کی توہین کی کوئی ایسی مثال کسی ملک میں مل سکتی ہے۔
‘مزار قائد کا احترام کرتے ہو تو قائد کے نظریات کا بھی احترام کرو‘
ان کا کہنا تھا کہ مزار قائد کا احترام کرتے ہو تو پھر ان کی تعلیمات کی بے حرمتی کیوں کرتے ہو، یہ جذبات اس وقت جوش کیوں نہیں مارتے جب آئین پر حملہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ جذبات اس وقت جوش کیوں نہیں مارتے، جب جمہوریت پر حملہ ہوتا ہے، جب ایک ملک کی حکومت پر شب خون مارا جاتا ہے۔
نواز شریف نے کہا صوبائی پولیس کے سربراہ کو گرفتار کر کے ایف آئی آر درج کرنے کا ذکر ہی نہیں، ان افراد کے نام تک نہیں بتائے گئے جنہوں نے یہ کام کیا۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کراچی واقعے کے ذمہ داروں کے نام مقدس ہیں، یہ صرف سیاستدان ہی ہیں، ان کے نام کے ساتھ چور، ڈاکو اور غدار لگا دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا حاضر سروس ججوں کے خاندانوں کی تضحیک کی جاتی ہے، صحافیوں کے نام لے کر نشانہ بنایا جاتا ہے اور آئینی حدود میں رہ کر کام کرنے والوں کے نام لے کر ان کی تضحیک کی جاتی ہے تو پھر ان سب کے نام بھی ضرور لئے جائیں گے۔
‘پریس ریلیزمسترد، انکوائری رپورٹ من گھڑت افسانہ ہے‘
نواز شریف کا کہنا تھا کہ پریس ریلیز کی بھر پور مذمت کرتا ہوں، انکوائری رپورٹ نہیں بلکہ من گھڑت افسانہ ہے جس نے کسی سوال کا جواب دینے کی بجائے بے شمار نئے سوالات اٹھا دیئے ہیں۔
انہوں نے کہا اس واردات کا حکم دینے والے اصل کرداروں پر پردہ ڈال کر آلہ کار بننے والوں کو قربانی کا بکرا بنا دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے لئے گھاٹے کا سودا ہے، روک ٹوک کرنے والے اور آئین پر چلنے کی تلقین کرنے والے وزیراعظم اور سیاست دانوں کو عبرت کا نشان بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری کسی ادارے سے کوئی غلط فہمی نہیں ہے بلکہ ہم اداروں کی مضبوطی چاہتے ہیں، تاریخ ثابت کرتی ہے کہ ہم نے ہمیشہ اداروں کو مضبوط کیا ہے۔
نواز شریف نے مزید کہا کہ اب سیاست میں مداخلت نہیں ہونی چاہئے، انتخابات میں دھاندلی بند ہونی چاہئے، عوام کے ووٹ کی عزت ہونی چاہئے اور ووٹ کو عزت دو کا بھر پور نعرہ لگانا چاہئے۔