سینئر صحافی رؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ مریم نواز نے جو بیان دیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات عوام کے سامنے ہونے چاہئیں اس کی زیادہ اہمیت نہیں ہے کیونکہ این آر او جب بھی ہوتا ہے وہ چھپ کر کیا جاتا ہے۔
یوٹیوب پر اپنے وی لاگ میں رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ شاید مریم نواز نے جان بوجھ کر ایک فیلر چھوڑا ہے تاکہ عمران خان کے ذہن میں شکوک بھرے جا سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ مریم نواز نے فوج کو عمران خان کو ہٹانے کی جو بات کی ہے اس پر بہت سے لوگ تنقید کر رہے ہیں کہ ایک طرف آپ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ بلند کرتی ہیں اور دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ کو حکومت ہٹانے کی دعوت دے رہی ہیں۔
رؤف کلاسرا کے مطابق سوال یہ ہے کہ اگر فوج نے عمران خان کو ہٹانا ہے تو اس کے لیے یا تو مارشل لا لگانا پڑے گا یا پھر عدم اعتماد کی تحریک کے لیے پس پردہ ڈوریں ہلانی پڑیں گی، دونوں صورتوں میں یہ ایک غیرآئینی مداخلت ہو گی۔
نواز شریف کا بیانیہ نون لیگ اپنا رہی ہے
رؤف کلاسرا کے تجزیے کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے مختلف رہنما ابتدائی ہچکچاہٹ کے بعد نواز شریف کے بیانیے سے متفق ہو رہے ہیں۔ خواجہ آصف، رانا ثنااللہ، احسن اقبال اور شاہد خاقان عباسی جیسے لوگ بھی دھیرے دھیرے کھل کر بات کرنے لگے ہیں۔
انہوں نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ شاہد خاقان عباسی سب سے زیادہ پریشان تھے، ان کا خیال تھا کہ اداروں کے سربراہوں کے نام لینے سے نون لیگ کی سیاست ختم ہو جائے گی۔
رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ جب ایاز صادق نے قومی اسمبلی میں بیان دیا تو ایک دو دن خوفزدہ رہے اور منظرعام پر نہیں آئے لیکن جب نوازشریف نے حوصلہ دیا تو وہ بھی ڈٹ گئے۔
انہوں نے شیخ رشید کی پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے سینیٹ کے انتخابات میں نون لیگ کو زیادہ نشستیں نہ لینے دی جائیں اور ان کے لوگ توڑ لیے جائیں۔
انکوائری رپورٹ سے نہ نوازشریف خوش اور نہ عمران خان
رؤف کلاسرا نے کہا کہ نوازشریف نے آج سوات جلسے سے خطاب میں کہا ہمیں کہا جاتا ہے نام نہ لیں، آپ سیاست دانوں کے نام لے کر انہیں چور ڈاکو کہلواتے ہیں لیکن کراچی کی انکوائری رپورٹ میں جنہیں ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے ان کا نام بھی نہیں لیا جاتا۔
انہوں نے کہا کہ انکوائری رپورٹ سے صرف بلاول بھٹو زرداری خوش ہیں، نواز شریف اور عمران خان دونوں ہی اس سے ناخوش ہیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ آرمی چیف نے وزیراعظم سے پوچھ کر بلاول کو فون کیا تھا لیکن شہباز گل نے اس کی تردید کر دی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فوج اور سویلین حکومت ایک صفحے پر نہیں ہیں۔
خفیہ ملاقاتیں شروع؟
رؤف کلاسرا نے انکشاف کیا کہ اسلام آباد میں پھیلی خبروں کے مطابق نون لیگ کے ایک اہم شخص کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے خفیہ ملاقات کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فوجی قیادت دباؤ میں ہو سکتی ہے، ممکن ہے کہ اس وجہ سے رابطے کیے جا رہے ہوں تاکہ کوئی درمیانی راستہ تلاش کیا جا سکے۔