کشمور میں ماں اور چار سالہ بچی کو درندوں سے بچانے والے سندھ پولیس کے بہادر افسر کا کہنا ہے کہ ملزمان نے بچی کی ماں کو دوسری خاتون کا بندوبست کرنے کے لیے چھوڑ دیا تھا اور بچی کو اپنے پاس رکھ لیا تھا۔
نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے اے ایس آئی محمد بخش برڑو نے ملزمان کی گرفتاری کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا اور بتایا کہ کس طرح انہوں نے اپنی بیٹی اور اہلیہ کی مدد سے وحشی درندوں کو گرفتار کیا۔
دوران انٹرویو محمد بخش برڑو نے بتایا کہ متاثرہ خاتون تبسم بیگم 31 تاریخ کو تھانے آئی تھی۔ ہیڈ محرر نے مجھے بتایا کہ اس خاتون کی مدد کرو ہمیں سمجھ نہیں آرہی کہ یہ خاتون کیا کہنا چاہ رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ تفتیش کرنے پر خاتون نے بتایا کہ انہیں اور ان کی کمسن بچی کو کسی شخص نے زیادتی کا نشانہ بنایا ہے، اب وہ کسی دوسری خاتون کا بندوبست کرنے تک میری بچی کو نہیں چھوڑے گا۔
اے ایس آئی نے بتایا کہ انہوں نے منصوبے کے تحت اپنی بیٹی کو متاثرہ خاتون کے ساتھ بھیجا۔
انہوں نے بتایا کہ میری بیٹی متاثرہ خاتون کے ساتھ مقررہ جگہ پہنچی تو ملزم نے خود کو افسر ظاہر کر کے اسے بھی ملازمت کی پیشکش کی۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی بیٹی نے متاثرہ خاتون کی مدد سے ملزم پر قابو پانے کی کوشش کی، اسی دوران پولیس بھی موقع پر پہنچی اور ملزم کو گرفتار کر لیا۔
ملزم کی نشاندہی پر چار سالہ بچی کو خالی مکان سے بازیاب کرا لیا گیا، بچی کو ایک گندے کپڑے میں لپیٹ کر فرش پر پھینکا گیا تھا۔
ملزم رفیق ملک کی ہلاکت
یاد رہے ماں اور کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے والا ملزم رفیق پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا۔
پولیس رفیق ملک کو ساتھ لے کر دوسرے ملزم خیراللہ بگٹی کی گرفتاری کے لیے گئی تو وہاں موجود مسلح افراد نے پولیس پر حملہ کر دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ وہ رفیق ملک کی نشاندہی پر جیسے روپوش ملزم خیراللہ بگٹی کے ٹھکانے پر گئے وہاں فائرنگ شروع ہو گئی۔
پولیس ذرائع کے مطابق دو طرفہ فائرنگ میں رفیق ملک مارا گیا اور خیر اللہ بگٹی کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
کشمور واقعہ
چند روز قبل کشمور میں 4 سالہ بچی اور اس کی ماں کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا، بچی پر بہیمانہ تشدد بھی کیا گیا جس سے اس کی انتڑیاں باہر نکل آئیں۔
ملزموں نے بچی کے دانت توڑ دیے، سر کے بال بھی کاٹ دیے، اس کے علاوہ اس کا گلا بھی دبایا گیا تھا۔