متنازع خبروں کا حصہ رہنے والی وینا ملک اور ان کے سابق شوہر اسد خٹک ایک بار پھرمیڈیا کی لائم لائٹ میں نظر آرہے ہیں۔
خبر یہ ہے کہ دونوں فریق اس وقت بچوں کی کسٹڈی کے معاملے پر ٹویٹر پرجنگ لڑنے میں مصروف ہیں۔
متنازع اداکارہ و ٹی وی میزبان وینا ملک پر ان کے سابقہ شوہر اسد خٹک نے بچے اسمگل کرنے کا الزام لگایا تھا جسے اداکارہ نے مسترد کرتے ہوئے بچوں کی کسٹڈی اپنا حق قرار دے دیا۔
گزشتہ دنوں اسد خٹک نے یکے بعد دیگرے کیے گئے ٹویٹس میں اپنی سابقہ اہلیہ پر الزام لگایا تھا کہ وہ دبئی کی عدالت نے بچوں کو میری کسٹڈی میں دیا تھا لیکن وینا ملک عدالتی احکامات کو نظرانداز کر کے بچوں کو پاکستان لے آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے میرے بچوں سے ملنے نہیں دیا جا رہا۔
جواب میں وینا ملک نے اپنے ٹویٹر پیغام پر ایک دستاویز شیئر کی اور ساتھ لکھا کہ قانون اور شریعت کی رو سے 25.09.2019 سے بچوں کی سر پرستی میرے پاس ہے۔
انہوں نے ایک اور ٹویٹر پیغام میں دوسری دستاویز شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ دبئی کے قوانین کی رو سے بھی بچوں کی سرپرستی میرے حوالے ہے۔
ان کے جواب میں اسد خٹک نے گزشتہ روز ٹویٹر پر ایک اور ویڈیو پوسٹ کی جس میں انہوں نے کہا کہ زاہدہ عرف وینا ملک کی طرف سے جس طرح کسٹوڈین شپ کے معاملے کو رنگ دیا جا رہا ہے، اس پر میری وضاحت اور اصل حقائق سامنے لانا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے تو اس بات کا جواب دیا جائے کہ جب بچے امریکن شہری اور دبئی کے رہائشی ہیں، ای سی ایل پر ہیں تو پاکستان کیسے پہنچے؟
اپنے ویڈیو پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ پھر میری ایکس پرانے آرڈرز دکھا رہی ہیں۔ جب کہ میرے پاس کورٹ کے 10 جون دو ہزار بیس کے آرڈر ہیں۔ میں پہلے بھی ٹویٹس میں عربی اور انگلش ترجمہ لگا چکا ہوں کہ کن بنیادوں پر بچے میری کسٹڈی میں دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اصل مدعا یہ ہے کہ بچوں کے نام ای سی ایل میں تھے تو پاکستانی ایمبیسی نے انہیں پاسپورٹ کیسےجاری کر دیے۔