پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ ہمارے پاس مصدقہ اطلاعات ہیں کہ افغانستان میں موجود بھارتی قونصل خانے پاکستان کے خلاف سازش میں مصروف ہیں۔
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں سی پیک کونقصان پہنچانے کیلیے بھارت نے خصوصی ملیشیا بنائی جبکہ الطاف حسین گروپ کو بھارتی خفیہ ایجنسی’را‘ نے دو کمپنیوں کے ذریعے فنڈنگ فراہم کی۔
انہوں نے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے افسران کے آڈیو کلپس بھی سنوائے گئے جس میں ’را‘ افسران پاکستان میں دہشتگردی کی ترغیب دے رہے ہیں جب کہ ایک ویڈیو بھی دکھائی گئی جس میں دہشتگرد کو ڈیوائس کے ذریعے دھماکا کرنے کا طریقہ کار بتایا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اجمل پہاڑی نے خود تسلیم کیا کہ بھارت الطاف حسین گروپ کو تربیت دیتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی اپنے فرنٹ مین کودیگرممالک میں فنڈنگ کررہی ہے، بھارت نے حال ہی میں داعش کے 30 دہشتگردوں کو پاکستان اورارد گرد منتقل کیا ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ افغانستان میں موجود بھارتی کرنل راجیش دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ رابطے میں ہے، بھارت کالعدم تنظیموں کا کنسورشیم بنا رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں حالیہ دہشتگردی اور دہشتگرد تنظیموں کی تمام کارروائیوں کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت دہشت گردوں کو تربیت اوراسلحہ فراہم کر رہا ہے، ڈاکٹراللہ نذرنے جعلی افغان پاسپورٹ پر بھارت کا سفرکیا۔
پریس کانفرنس کے دوران ڈاکٹر اللہ نذر اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ حکام کے درمیان آڈیو گفتگو بھی چلائی گئی۔
پاک فوج کے ترجمان نے بتایا کہ پشاور ایگریکلچر یونیورسٹی اور اے پی ایس میں’را‘ملوث تھی، ان حملوں کی وڈیوز افغانستان سے اپ لوڈ کی گئیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ اے پی ایس حملے کے بعد ملک فریدون جشن منانے کے لیے افغانستان میں بھارتی قونصلیٹ گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ پی سی گوادر حملے کا ماسٹرمائنڈ را افسر انوراگ سنگھ تھا۔
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت آزاد جموں کشمیر،گلگت بلتستان میں شورش کوہوا دے رہا ہے