برسلز: بیلجیئم کی حکومت نے قرآن پاک کی بے حرمتی کا منصوبہ بنانے والے ڈنمارک کے 5 شہریوں کو ملک بدر کر دیا ہے۔
بیلجیئن میڈیا کے مطابق ڈنمارک سے تعلق رکھنے والے پانچوں افراد مسلمانوں کو اشتعال دلانے کے لیے قرآن کی بےحرمتی کرنا چاہتے تھے۔
بیلجیم کے سیکریٹری آف اسٹیٹ فار مائیگریشن و مہاجرین سیمی مہدی نے کہا ہے کہ یہ افراد بیلجیئم کی سلامتی کے لیے خطرہ تھے اس لیے انہیں ملک سے نکالا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں فرانس میں بھی ایک فرد کو انہیں وجوہات کی بنا پر گرفتار کیا گیا۔
اپنے بیان میں وزیر کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں پہلے ہی کئی مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود ہیں، اس معاشرے میں نفرت پھیلانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
سیمی مہدی نے کہا کہ ہمیں اس بات کی فکر نہیں کہ وہ کس مکتبہ فکر کے لوگ تھے ہمیں صرف اپنے شہریوں کے تحفظ سے غرض ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ان افراد نے برسلز کے جن علاقوں میں قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے کا منصوبہ بنایا تھا وہاں مراکش نژاد لوگ زیادہ تعداد میں آباد ہیں۔
بیلجیئن میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ ملک بدر کیے جانے والے افراد اسٹرام کورز نامی ایک تنظیم کے ارکان تھے، اس تنظیم کی سربراہی ڈنمارک کا اسلام مخلف انتہا پسند راسموس پلوڈن کر رہا ہے۔
اس گروپ کی جانب سے حال ہی میں راسموس کے فرانس میں گرفتار ہونے کی خبر سامنے آئی تھی، گروپ کے ذمہ دارن نے بتایا تھا کہ راسموس کو گرفتاری کے بعد واپس بھیج دیا گیا ہے۔
یاد رہے اسٹرام کورز ایک انتہا پسند گروہ ہے جو اس سے قبل بھی اشتعال انگیزیاں پھیلانے سے متعلق کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔
اس سے قبل بھی فرانس میں مسلمانوں کے آخری پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے توہین آمیز خاکے شائع کرنے پر مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی تھی۔
خاکوں کی اشاعت کا مقصد صرف مسلمانوں کو اشتعال دلانا تھا، فرانس کے صدر ایمانوئل میکران نے بھی خاکوں کی اشاعت کی حمایت کر کے اسے آزادی اظہار رائے قرار دیا تھا۔
فرانس کے اس اقدام کے بعد دنیا بھر سے مسلمانوں نے بائیکاٹ فرانس کی مہم شروع کر دی تھی۔