لاہور: انسداد بدعنوانی کی عدالت نے لیگی رہنما خواجہ آصف کی اہلیہ اور بیٹے کے خلاف قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے جرم میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔
نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کی انسداد بدعنوانی عدالت نے ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کی جانب سے دائر کیے گئے ریفرنس پر مقدمہ درج کیا۔
مقدمے میں ن لیگ کے رہنما خواجہ آصف کی اہلیہ مسرت خواجہ اور ان کے صاحبزادے اسد خواجہ سمیت 9 افراد کو شامل کیا گیا ہے۔
سیالکوٹ کے سابق میئر توحید اختر کو بھی مقدمے میں شامل کیا گیا ہے۔
انسداد کرپشن حکام کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ میئر سیالکوٹ کی جانب سے دائر کیے گئے ریفرنس میں قومی خزانے کو 7 کروڑ 80 لاکھ روپے کا نقصان پہنچانے کا الزام لگایا گیا ہے۔
ریفرنس میں بتایا گیا ہے کہ ملزمان نے غیر قانونی طور پر سرکار کی زمین کو اپنی سوسائٹی میں شامل کیا گیا جس سے قومی خزانے کو 6 کروڑ 50 لاکھ کا نقصان پہنچایا گیا۔
انسداد کرپشن حکام کا کہنا ہے کہ سوسائٹی کے مالک سابق میئر سیالکوٹ چوہدری توحید اور خواجہ آصف کی اہلیہ اور صاحبزادے ہیں۔
حکام نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالکان نے غیرقانونی طور پر کئی اوپن مقامات، کمیونٹی سنٹرز اور قبرستان کی زمین کو پلاٹس میں شامل کر کے بیچ دیا۔
رپورٹ کے مطابق جب سوسائٹی کو رجسٹر کرایا گیا تھا تو اس کی زمین 137 کنال تھی لیکن غیرقانونی طریقوں کو اختیار کرتے ہوئے اس میں 281 کنال زمین اور شامل کر دی گئی ہے۔