ریاض: سعودی عرب کے کئی علاقوں میں خشک سالی کے بعد حکومت نے عوام سے درخواست کی ہے کہ 19 نومبر جمعرات کے روز نماز استسقاء ادا کریں۔
خبررساں ادارے کے مطابق سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبد العزیز نے عوام کو تاکید کی ہے کہ اللہ کی رحمت کے حصول اور نبی پاک رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو تازہ کرنے کے لیے نماز استسقاء ادا کریں۔
سعودی فرمانروا نے اپنی شاہی فرمان میں کہا ہے کہ باران رحمت کے حصول کے لیے توبہ استغفار اور ذکر ازکار کیے جائیں تاکہ اللہ ہم پر اپنی رحمت کے دروازے کھولے۔
عوام کے نام فرمان میں لکھا گیا ہے کہ مساجد میں نوافل کا اہتمام کریں، اللہ کی طرف زیادہ سے زیادہ رجوع کریں۔
انہوں نے چار ربیع الثانی کو عوام سے باجماعت نماز استسقاء کی ادائیگی کی درخواست کی۔
شاہ سلمان نے خود بھی اللہ سے دعا کی ہے کہ مملکت کے حال پر اپنا فضل کرتے ہوئے بارش برسائے۔
یاد رہے سعودی عرب میں کئی ماہ سے بارش نا ہونے کی وجہ سے ملک خشک سالی کا شکار ہے۔
سعودی محکمہ موسمیات نے منگل کے روز دارالحکومت ریاض میں موسم گرم اور خشک رہنے کی پیشگوئی کی ہے۔
محکمہ موسمیات کے ماہرین نے انتباہ جاری کی ہے کہ ریاض میں ہوا کا معیار غیرصحت بخش ہے۔
ماہرین موسمیات نے عوام کو اپنی بیرونی سرگرمیاں محدود کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حساس صحت کے مالک افراد اس موسم کی وجہ سے مختلف بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ملک کے دیگر شہروں میں بھی بارشیں نا ہونے سےعوام مسائل کا شکار ہیں۔
نماز استسقاء کیا ہے
خشک سالی اور بارش کی شدید ضرورت کے دور میں نماز استسقاء پڑھنا محتسب ہے۔
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش نا ہونے کی صورت میں نماز استسقاء پڑھائی تھی اور ایک موقع پر صرف دعا پر ہی اکتفاء کیا تھا۔