بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی شکیب الحسن نے بھارت میں ہندؤوں کے تہوار میں شرکت کرنے پر معافی مانگ لی ہے۔
کرکٹ اسٹار شکیب الحسن پر لگائی گئی دو سال کی پابندی ختم ہوئی ہی تھی کہ آل راونڈر کھلاڑی نئے تنازع کا شکار ہوگئے ہیں۔
بھارت کے شہر کلکتہ میں ہندوں کے مذہبی تہوار میں شرکت کرنے پر انہیں مداحوں اور دیگر حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا جس پر انہوں نے معافی مانگ لی ہے۔
بنگلہ دیش کے اسلامی مبلغین کا کہنا ہے کہ ایک مسلمان کو دیگر مذاہب کے تہواروں میں شرکت نہیں کرنی چاہیے۔
اپنے پیغام میں شکیب الحسن کا کہنا تھا کہ میں صرف دو منٹ کے عرصے کے لیے اسٹیج پر گیا تھا اور لوگ یہ خیال کر رہے ہیں کہ میں نے تقریب کا افتتاح کیا ہے۔
اپنے بیان میں آل راونڈر کھلاڑی کا کہنا تھا کہ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے میں نے ایسا نہیں کیا اور آئندہ بھی نہیں کروں گا۔
ان کا کہنا تھا کہ میں تقریب میں شرکت کے لیے معافی مانگتا ہوں۔
شکیب الحسن کا بیان اس وقت سامنے آیا جب ایک فیس صارف نے مذہبی جذبات مجروح کرنے پر اپنے لائیو سیشن میں انہیں دھمکیاں دیں۔ کھلاڑی کے بیان کے بعد صارف نے اپنے الفاظ پر معافی مانگ لی تھی۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ فیس بک پر لائیو آنے والے شخص کو تلاش کر رہے ہیں جس نے لائیو سیشن کے دوران خنجر کی نمائش بھی کی۔
آئی سی سی کی ون ڈے انٹرنیشنل رینکنگ میں بطورآل راونڈر پہلے نمبر پر براجمان رہنے والے شکیب الحسن پر آئی سی سی کے کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی کرنے پر دو سال کی پابندی لگا دی گئی تھی۔
2015 میں شکیب الحسن آئی سی سی کے تینوں فارمیٹس میں پہلے نمبر پر رہنے والے آل راونڈر کا اعزاز بھی اپنے نام کر چکے ہیں۔