• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
منگل, اپریل 14, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

5 ہزار ارب روپے قرض ادا نہ کرنا پڑتا تو عوام کو بہت سہولتیں دے سکتے تھے، حفیظ شیخ

by sohail
نومبر 17, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین, معیشت
0
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ جب تحریک انصاف کی حکومت آئی تو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20 ارب ڈالر تھا جسے پہلے دو سال میں کم کرکے 3 ارب ڈالر کیا گیا اور اب یہ سر پلس ہو چکا ہے۔

حفیظ شیخ کے مطابق ہمارے اخراجات آمدنی سے زیادہ تھے جس کی وجہ سے تاریخی سطح پر مقروض ہو چکے تھے، اسی لیے موجودہ حکومت کو 5 ہزار ارب روپے قرض کی مد میں ادا کرنے پڑے۔

انہوں نے کہا کہ اگر 5 ہزار ارب روپے قرض کی مد میں ادا نہ کرنے پڑتے تو عوام کو بہت کچھ دے سکتے تھے۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آٹوموبائل سمیت دیگر شعبہ جات کی گروتھ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

ڈاکٹر حفیظ شیخ کے مطابق ہم بجٹ کے علاوہ کوئی سپلمنٹری گرانٹ نہیں دے رہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بیرون ملک سے پاکستان میں جولائی سے اکتوبر کے درمیان سرمایہ کاری کی مد میں 735 ملین ڈالر آئے ہیں۔

حفیظ شیخ کے مطابق پوری دنیا نے تسلیم کیا کہ پاکستان نے 250 ارب روپے کے ٹیکس ری فنڈ کئے جبکہ ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ سب جانتے ہیں جب حکومت آئی تب بحرانی کیفیت تھی اسی وجہ سے ہمیں عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پاس جاناپڑا۔

انہوں نے کہا کہ شروع ہی سے کوشش رہی کہ بحرانی کیفیت سے نکلیں اور کورونا وائرس سے پہلے استحکام کی جانب پہنچ گئے تھے۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکسز میں 17 فیصد اضافہ ہوا، اخراجات کو کم کیا اور پرائمری بیلنس سرپلس کیا گیا۔

حفیظ شیخ کے مطابق ایکسپورٹ بڑھائی گئیں اور کاروباری افراد کو مراعات دی گئیں تاکہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 8 سے 10 سال میں انکم ٹیکس ری فنڈ نہیں دیئے گئے جبکہ ہم نے فیصلہ کیا کہ ری فنڈ کو بچت سے ادا کئے جائیں تاکہ کوئی عذر برقرار نہ رہے۔

اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ برآمد کی گئی چینی مارکیٹ میں 83 روپے فروخت ہو رہی ہے جبکہ حکومت اشیائے خور ونوش کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کیلئے کوشاں ہے۔

Tags: حفیظ شیخقرضوں کی واپسیکرنٹ اکاؤنٹ خسارہ
sohail

sohail

Next Post

باراک اوبامہ کی نئی کتاب، ایبٹ آباد آپریشن اور زرداری، کیانی کا ردعمل، رؤف کلاسرا کا وی لاگ

فضل الرحمان نے میرے متعلق جھوٹ بولا ہے، شبر زیدی

جشن یا لمحہ فکریہ؟

برطرف افسر کے وزیراعظم پر شوگر مافیا کو 400 ارب روپے کا فائدہ پہنچانے کے الزامات

وزیراعظم کی کورونا ویکیسن کے لیے 10 کروڑ ڈالر مختص کرنے کی منظوری

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In