سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے میرے متعلق جھوٹ باندھا ہے, میرا بیان عمران خان کے نہیں بلکہ مولانا اور انکے اردگرد کھڑے لوگوں کے خلاف ایف آئی آر ہے۔
پبلک نیوز کے پروگرام میں سینئر صحافی رؤف کلاسرا اور عامر متین سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں پہلے عمران خان کا صرف جاننے والا تھا مگر 5 ماہ اس شخص کے ساتھ کام کرنے کے بعد میں اب ان کا سپورٹر ہوں, یہ شخص حقیقت میں نظام درست کرنا چاہتا ہے اور ملک کے ساتھ مخلص ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میرے خلاف میڈیا میں مہم چلائی گئی، جب رات کو گھر جا کر ٹی وی دیکھتا تو اپنے خلاف چلنے والی والی خبریں دیکھ کر خوفزدہ ہو جاتا تھا۔
شبر زیدی نے کہا کہ میڈیا کو اپنے خلاف بولتے دیکھ کر میری صحت خراب ہوئی اس کے بعد میرے لیے بطور چئیرمین کام کرنا ناممکن ہو گیا تھا، میرے اہلخانہ بھی میرے استعفیٰ دینے پر اصرار کر رہے تھے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ میڈیا اور میرے پروفیشن سے لوگ میرے خلاف پروپیگنڈہ کرتے رہے, ان لوگوں کو ڈر تھا کہ میں انکی وارداتوں سے متعلق سب جانتا ہوں اس لیے اگر میں رہا تو ان کی حقیقت کھل جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملک کے بڑے تاجروں نے جب ملاقات کی تو آرمی چیف نے ان سے ملک کی بہتری کی تجاویز مانگیں، ایک بڑی کاروباری شخصیت نے کہا کہ باجوہ صاحب ملک میں کرپشن بہت ہوگئی ہے جس پر انہوں نے جواب دیا کہ آپ نے ہی تو لوگوں کو کرپشن سکھائی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس ملاقات میں کسی ایک کاروباری شخص نے ملک کے مسائل کے بارے میں کوئی کام کی تجویز نہیں دی، سب اپنے اپنے مسائل کا رونا روتے رہے۔
شبرزیدی کے مطابق ان تاجروں کو بس یہی فکر تھی کہ بس ہمارے کاروبار بچ جائیں اور انہیں کوئی نقصان نہ پہنچے، میں اُسی دن ڈپریشن میں چلا گیا کہ اس ملک کا تاجر کس قدر خودغرض ہے۔
انہوں نے ایک نئی اصطلاح متعارف کرائی اور کہا کہ اس ملک میں سٹیٹ سپانسرڈ کرپشن ہورہی ہے. تمام قوانین اس کرپشن کی پشت پناہی کرنے والے ہیں۔
سابق چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ سیاستدانوں کے کاروبار ریکارڈ پر نہیں ہیں اور نہ ہی وہ دستاویزی شکل میں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف نے 1992 میں جو ایکٹ پاس کیا وہ منی لانڈرنگ کیلیے تھا، میں پہلا شخص تھا جس نے اس سب کو صحیح کرنے کی کوشش کی تو سارا مافیا میرے خلاف ہوگیا، میں نے جس سیکٹر پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی اس نے میرے خلاف پروپیگنڈہ کیا اور ہڑتالیں کیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایک لمز کی پڑھی لکھی خاتون ممبر قومی اسمبلی نے الزام لگایا کہ میں نے اپنے کلائنٹس کو ریفنڈ دے دیے جس کے بعد لوگ مجھ سے وضاحتیں مانگنے لگے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سوال کبھی ایف بی آر تک پہنچا ہی نہیں، ریفنڈ کی معلومات لینا غیرقانونی ہیں، کوئی انہیں نہیں لے سکتا، سوال یہ ہے کہ ان خاتون کو کیسے پتہ چل سکتا ہے؟ یہ خاتون 62/63 پر نااہل ہوسکتی ہیں۔
شبر زیدی نے مزید کہا کہ میں زیادہ بولنا نہیں چاہتا کیونکہ اگر میں بولا تو پاکستان کے بہت بڑے چہروں سے نقاب ہٹ جائیں گے۔