کورونا وبا کے پھیلاؤ کے پیش نظر کورونا کی ویکسین تمام ممالک کے لیے انتہائی اہمیت اختیار کر چکی ہے اور مختلف ممالک اس کی خریداری کے لیے کمپنیوں کو پیشگی ادائیگی کی پیش کش کر رہے ہیں۔
اس حوالے سے حکومت پاکستان نے بھی کوششیں شروع کر دی ہیں، وزیراعظم عمران خان نے 10 کروڑ ڈالرز کی رقم پیشگی ادائیگی کے لیے مختص کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ابتدائی طور پر محدود تعداد میں ویکسین کی دستیابی کے باعث بزرگ شہریوں، ماہرین صحت اور زیادہ خطرے کی زد میں رہنے والوں کو پہلی ترجیح دی جائے گی۔
اس وقت تک دنیا کی 11 کمپنیاں ویکسین کی تیاری کے آخری مراحل میں پہنچ گئی ہیں، ان میں سے فائزر اور بائیو این ٹیک کے علاوہ ماڈرنا کمپنی نے کلینکل ٹرائل کے تیسرے مرحلے میں کورونا کے خلاف ویکسین کی بالترتیب 90 اور 94.5 فیصد کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔
تاہم ابھی اس مرحلے کے مکمل نتائج سامنے آنے ہیں جس کے بعد امریکہ اور یورپی یونین کی ڈرگز اتھارٹیز کے پاس ڈیٹا بھیجا جائے گا جو اس کی جانچ پڑتال کے بعد منظوری دیں گی جس کے بعد عوام کے لیے ویکسین میسر ہو سکے گی۔
ابھی تک ویکسین کی لاگت کا بھی کوئی اعلان نہیں ہوا تاہم یہ کہا جا رہا ہے کہ اس کی قیمت عام آدمی کی استطاعت سے باہر ہو سکتی ہے۔
ڈان اخبار کے مطابق ہیلتھ سروسز اکیڈمی (ایچ ایس اے) کے وائس چانسلر اور نیشنل ویکسین کیمیٹی کے ڈاکٹر اسد حفیظ کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کے فائنل ٹرائل مکمل ہونے میں ایک ماہ مزید لگ سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کمپنیوں کو عبوری طور پر ویکسین کے استعمال کی اجازت مل سکتی ہے البتہ مکمل منظوری میں ایک سال بھی لگ سکتا ہے۔ عبوری اجازت ملنے پر بھی عوام کو مہیا کی جا سکے گی۔۔
ڈاکٹر اسد حفیظ کا کہنا تھا کہ وزارت صحت جلد از جلد ویکسین حاصل کرنے کے لیے آدھ درجن ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ساتھ مذاکرات کررہی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر حفیظ نے کہا کہ حکومت ویکسین کی خریداری کے عمل کو حتمی شکل دینے کے بہت قریب ہے تاہم ویکسین حاصل ہونے میں مزید چند ماہ لگے گیں۔
وزارت صحت کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ ویکسین معمولی قیمت پر میسر نہیں ہو گی کیونکہ کمرشل کمپنیاں اسے تیار کر رہی ہیں اور وہ اپنا نفع بھی رکھیں گی۔
یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے پرروفیسر جاوید اکرم نے ویکسین کی خریداری کے لیے فنڈز مختص کرنے کے حکومتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو یہ بھی دیکھنا چاہیئے کہ یہ ویکسین ہمارے خطے کے عوام کے لیے بھی موثر ثابت ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات ایک ویکسین ایک خطے کے لیے موثر ہوتی ہے اور دوسرے خطے میں اتنی موثر نہیں ہوتی۔