سپریم کورٹ آف پاکستان میں کٹاس راج مندر میں پانی خشک ہونے سے متعلق کیس کی جسٹس عمر بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔
کیس کی سماعت کے دوران چیئرمین پاکستان ہندو کونسل رمیش کمار پیش ہوئے۔
رمیش کمار نے عدالت کو بتایا کہ کٹاس راج مندر میں موجود رام چندر مندر اور ہنومان مندر میں کوئی ایک مورتی موجود نہیں ہے۔
اس پر جسٹس عمر بندیال نے استفسار کیا کہ کیا کٹاس راج مندر صرف ایک کمرہ ہے جہاں عبادت کا کوئی سامان موجود نہیں؟ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے کٹاس راج مندر کو میوزیم نہیں بنانا۔
چیئرمین ہندو کونسل نے عدالت کو بتایا کہ ملک بھر میں 12 سو 21 مندر، 5 سو 89 گوردوارے اور ہندو برادری کی 15 ہزار 849 پراپرٹیز متروکہ وقف املاک کے پاس ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کٹاس راج مندر میں کوئی مستقل پجاری موجود نہیں، عارضی طور پر ایک پجاری رکھا ہے جسے ضرورت پڑنے پر سکھر سے بلایا جاتا ہے۔
جسٹس عمر عطاء بندیال نے استفسار کیا کہ کیا چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ عدالت میں موجود ہیں؟ عدالت کو بتایا گیا کہ وہ کورونا کا شکار ہو گئے ہیں۔
جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ ڈی جی ای پی اے اور ڈی سی چکوال کی رپورٹس عدالت میں جمع کرائی جا چکی ہیں، ان رپورٹس کے مطابق کٹاس راج چشمہ مکمل خشک نہیں ہوا جسے دوبارہ بحال کیا جا سکتا ہے۔
اس موقع پر درخواست گزار راجہ وسیم نے کہا کہ عدالت کا حکم تھا کہ زیر زمین پانی کا استعمال نہیں کیا جائے گا۔
جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ ہمیں رپورٹس کا اندازہ ہے، پہلے بھی تمام اداروں نے ان سیمنٹ پلانٹس کو ماحولیات سے متعلق این او سی جاری کئے تھے۔
سپریم کورٹ نے ڈی جی ای پی اے اور چیئرمین متروکہ املاک بورڈ کو آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے اپنے حکم میں کہا کہ درخواست گزار راجہ وسیم تحریری معروضات عدالت میں جمع کرائیں۔
چیئرمین ہندو کونسل رمیش کمار نے عدالت کو بتایا کہ اس وقت ملک بھر میں کل 31 مندر اور گردوارے فعال ہیں۔