• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, اپریل 8, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

کورونا سے متعلق حکومتی پالیسیوں میں تضاد ہے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ

by sohail
نومبر 18, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کورونا کے ایس او پیز پر عملدرآمد کرانا ریاست کی ذمہ داری ہے لیکن وبا کے حوالے سے حکومت کی اپنی پالیسیوں میں تضاد ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کورونا کی وجہ سے ان ڈور شادی ہال پر پابندی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی، اس موقع پر اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے وفاقی حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ خود تو پابندی کر نہیں رہے۔

عدالت نے مارکیز کے وکیل سردار تیمور اسلم سے سوال کیا کہ آپ کو کیا چاہئے؟ آپ کے والد اور چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کورونا کی وجہ سے فوت ہو گئے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کورونا کی جو صورتحال ہے، ہمیں تو خود ساری چیزیں بند کر دینی چاہئے، کورونا کی یہ لہر بہت سیریس ہے اس لئے ہمیں سخت احتیاط کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں پولیس کو اختیار ہے کہ وہ کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر جرمانے بھی کر سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تو ریاست کی ذمہ داری ہے کہ کورونا ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد کرائے، کورونا سے متعلق حکومت کی اپنی پالیسیوں میں تضاد ہے، کورونا کی وجہ سے تو پارلمینٹرین بھی انتقال کر گئے ہیں۔

عدالت نے کہا کہ ایس او پیز کے باوجود جوکچھ گلگت بلتستان میں کچھ دن قبل نظر آیا تشویش ناک ہے، یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود بھی اپنے بنائے ہوئے ایس او پیز پر عمل کرے کیونکہ کورونا کی وجہ سے مستقبل میں کیا ہو گا کوئی نہیں جانتا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ ہمیں پارلیمنٹ سے بہت توقعات ہیں لیکن وہ اپنا کردار ادا نہیں کر رہی، کوئی نہیں سوچ رہا کہ اگلا نشانہ وہ بھی ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس موقع پر تمام سیاسی جماعتوں کو یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہئے کیونکہ غیر معمولی حالات میں لیڈر شپ کے غیر معمولی فیصلے ہونے چاہئیں۔

عدالت نے بعد ازاں کورونا کے باعث ان ڈور شادی ہالز اور مارکیز کی 20 نومبر سے بندش کے خلاف درخواست نمٹا دی۔

Tags: اسلام آباد ہائیکورٹپاکستان میں‌ کورونا وائرسچیف جسٹس اطہر من اللہ
sohail

sohail

Next Post

خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر، جسٹس فائز عیسیٰ کے سخت ریمارکس

ڈالر کی اونچی اڑان، ایک روپے 52 پیسے مہنگا ہو گیا

تعلیمی اداروں میں 31 جنوری تک چھٹیاں، تعلیمی سیشن، امتحان کی تاریخ بڑھانے کی تجاویز

ڈارک ویب کے مجرم کو تین بار پھانسی کی سزا سنا دی گئی

معید یوسف اور شیریں مزاری کے درمیان جھڑپ کیوں ہوئی، رؤف کلاسرا کے انکشافات

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In