معصوم بچوں کے اغواء، ریپ اور ان کی ویڈیوز ڈارک ویب پر فروخت کرنے میں ملوث مجرم سہیل ایاز کو تین بار پھانسی اور تین بار عمر قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔
راولپنڈی کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جہانگیر گوندل نے بچوں کو اغواء اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔
مجرم سہیل ایاز پر بچوں کے اغواء اور ریپ کے علاوہ ڈارک ویب کے لیے پورن ویڈیوز بنانے کا جرم بھی ثابت ہوا جس کے بعد عدالت کی جانب سے مجرم کو سزا سنائی گئی۔
عدالت نے مجرم کو حکم دیا کہ وہ متاثرہ خاندانوں کو پانچ پانچ لاکھ روپے بھی دے۔
یاد رہے مجرم سہیل ایاز کو گزشتہ سال راولپنڈی سے ایک خاتون کی شکایت کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ خاتون نے اپنے 13 سالہ بیٹے کے ساتھ جنسی زیادتی کی درخواست راولپنڈی تھانے میں دی تھی۔
گرفتاری کے بعد ملزم کے کمپیوٹر سے بچوں کی پورن ویڈیوز برآمد ہوئی تھیں۔ جنہیں وہ ڈارک ویب کو بیچتا تھا۔
سہیل ایاز کو اس سے قبل برطانیہ کی ایک عدالت نے بھی چار سالہ بچے کے ساتھ زیادتی کے بعد چار سال قید کی سزا سنائی تھی۔
ذرائع کے مطابق سہیل ایاز بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم سیو دی چلڈرن کا سابق ملازم ہے۔
برطانیہ میں تحقیقات کے دوران سہیل ایاز کے فلیٹ سے 2000 سے زائد غیراخلاقی تصویریں اور ویڈیوز برآمد ہوئی تھیں جن میں کم عمر بچے بھی شامل تھے۔
برطانوی پولیس نے سہیل ایاز کو اطلالوی گروہ کے ساتھ تعلقات کے انکشاف کے بعد جولائی 2009 میں اٹلی کی حکومت کے حوالے کر دیا تھا۔