ہوائی کمپنیاں کورونا وائرس کے لیے بنائی گئی ویکسین کو لے جانے کے لیے مخصوص اسٹوریج تیار کر رہی ہیں، جہاں اسے انتہائی سرد اسٹورز میں رکھا جائے گا۔
فارما سیوٹیکل کمپنی پی فائزرز کی جانب سے تیار کی گئی کورونا ویکسین کو دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے منفی 70 ڈگری درجہ حرارت کی ضرورت ہوگی۔
ایئر کارگو ایسوسی ایشن اینڈ ڈرگ شیپرز کی جانب سے کیے گئے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہوائی صنعت کے 15 فیصد اراکین منفی 70 ڈگری پر اشیاء کو منتقل کرنے کے لیے تیار ہیں۔
سروے کے مطابق 60 فیصد لوگ ماڈرنا کی ویکسین کو منتقل کرنے کی ضرورت کو پورا کر رہے ہیں۔ موڈرینا کی ویکسین کو منفی 20 ڈگری سیلسیئس پر رکھا جا سکتا ہے۔
ایئرلائنز عام طور پر ادویات کی بیرون ملک منتقلی کے لیے مخصوص کنٹینر استعمال کرتی ہیں جن میں کولنگ کا نظام سیٹ کیا گیا ہوتا ہے، ایئرلائنز خشک برف کو بھی ادویات کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
کچھ ہوائی کمپنیوں کے پاس درجہ حرارت کنٹرول کرنے کے لیے مناسب اقدامات نہیں ہوتے تاکہ فلائیٹ میں غیرمتوقع تاخیر کے دوران ادویات کو محفوظ رکھا جا سکے۔
ہوائی کمپنیاں اب اس بات پر غور کر رہی ہیں کہ جہاز کے اندر ایک بڑا فریزر رکھا جائے جس کی قیمت ایک چھوٹی کار جتنی ہو سکتی ہے۔
یاد رہے امریکی فارما سیوٹیکل کمپنیاں پی فائزر اور ماڈرنا نے کورونا کی موثر ویکسین تیار کرنے کا اعلان کیا تھا۔
موڈرینا کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ ان کی تیار کی گئی ویکسین 94.5 فیصد موثر ہے اور کورونا کا علاج کر سکتی ہے۔