• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, اپریل 15, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home کالم

جشن یا لمحہ فکریہ؟

by sohail
نومبر 18, 2020
in کالم
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات اور گلگت ایجنسی کو جوڑ کر ستمبر 2009 میں سیلف گورننس آرڈر کے تحت خود مختار صوبائی حکومت کا درجہ دیا گیا تھا۔

حالیہ انتخابات گلگت بلتستان کے مجموعی طور پر تیسرے انتخابات ہیں، اس سے قبل 2009 اور 2015 میں وہاں انتخابات ہو چکے ہیں، 2009 میں پیپلز پارٹی نے 23 میں سے 14 نشستیں اور 2015 میں مسلم لیگ نون نے 23 میں سے 16 نشستیں جیت کر وہاں صوبائی حکومت بنائی تھی۔

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون نے حکومت بنانے کیلئے مطلوبہ نشستوں سے کہیں زیادہ نشستیں جیت کر حکومت بنائی تھی اور یہاں بھی آزاد کشمیر کے انتخابات کی طرح جیت اسی جماعت کی جیت ہوتی رہی جو اسلام آباد کے تخت پر براجمان ہوتی تھی۔

گلگت بلتستان 2020 کے حالیہ انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف نے 8 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے جو کہ حکومت بنانے کیلئے مطلوبہ سادہ اکثریت سے کم ہیں اور یہ پہلی بار ہے کہ مرکز میں حکومت کرنے والی جماعت یہاں سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام ہوئی ہو۔

اچھی بات یہ ہے کہ ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کو بے حد سنجیدگی سے لیا اور اپنے اپنے امیدواروں کیلئے بھرپور مہم چلائی اور قائدین نے بہت وقت صرف کیا۔ بلاول بھٹو زرداری وہاں 3 ہفتوں سے موجود ہیں، مریم نواز اور دیگر نون لیگی مرکزی قائدین بھی گلگت بلتستان میں موجود رہے اور وزیر اعظم عمران خان نے بھی گلگت میں جلسہ کیا جبکہ پی ٹی آئی کے دوسرے رہنما بھی بھرپور انتخابی مہم چلاتے رہے۔ غرضیکہ اس تمام تر عرصے میں سیاسی سرگرمیاں عروج پہ رہیں۔

حسب توقع پی پی پی اور مسلم لیگ نون نے انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے اور دھاندلی کا رونا رو رہے ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف جیت کا جشن منانے میں مصروف ہے۔

یہاں میں آپ سب کو دوبارہ یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ یہ گلگت بلتستان کے انتخابی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ حکمران جماعت کو سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکامی ہوئی ہو۔

اب مجھے یہ بات سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا سادہ اکثریت حاصل نہ ہونا حکمران جماعت کیلئے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے یا 8 نشستیں جیت کر جشن منانا؟ فیصلہ اپ خود ہی کر لیں۔

Tags: گلگت بلتستان کے انتخابات
sohail

sohail

Next Post

برطرف افسر کے وزیراعظم پر شوگر مافیا کو 400 ارب روپے کا فائدہ پہنچانے کے الزامات

وزیراعظم کی کورونا ویکیسن کے لیے 10 کروڑ ڈالر مختص کرنے کی منظوری

کٹاس راج مندر میں پانی خشک، مورتیاں غائب، رمیش کمار سپریم کورٹ میں پیش

ٹوئٹر نے صارفین کے لیے نیا شاندار فیچر متعارف کرا دیا

سلطنت عمان کا پچاسواں قومی دن اور کامرانیوں کا سفر

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In