چینی کمیشن کی تحقیقات کے دوران معطل اور بعد میں انکوائری کے نتیجے میں نوکری سے برطرف سابق ایڈیشنل ڈائرکٹر ایف آئی اے سجاد مصطفیٰ باجوہ نے وزیراعظم عمران خان، پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اور مشیر شہزاد اکبر پر شوگر مافیا کو 400 ارب روپے سے زیادہ کا فائدہ پہنچانے کے الزامات عائد کئے ہیں۔
اس حوالے سے سجاد باجوہ کا کہنا تھا کہ کمیشن کی انکوائری کے دوران انہوں نے چینی کی افغانستان اسمگلنگ کے معاملے پر اپنے شکوک کا اظہار کیا تھا۔
شوگر انکوائری کمیشن کو ملز مالکان کے خلاف کارروائی کے لیے ٹھوس ثبوت مل گئے
سندھ ہائیکورٹ نے شوگر انکوائری کمیشن رپورٹ غیرقانونی قرار دے دی
شوگر انکوائری کمیشن کو تحقیقات مکمل کرنے کے لیے مزید وقت درکار، ذرائع کا دعویٰ
انہوں نے کہا کہ میں نے شوگر ملز کے معاملات میں مرکزی بینک، ایس سی پی اور ایف بی آر کے کردار کے متعلق سوالات اٹھائے تھے۔
انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ مافیا کے خلاف ان کی کاوشوں کے باعث حکومت میں شامل کچھ طاقت ور لوگ ان کے خلاف متحرک ہو گئے اور انہیں ملازمت سے نکالنے کے درپے ہو گئے۔
سجاد باجوہ کے مطابق یہ طاقتور حلقے نہیں چاہتے تھے کہ وہ ایسے معاملات پر تحقیقات کریں جن سے ان کے مفادات پر زد پڑتی ہو اور اس مافیا کو قابو میں لایا جا سکتا ہو۔
انہوں نے شوگر کمیشن کو ایک ڈرامہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد چینی کی قیمت نیچے لانا نہیں تھا، اس کے پیچھے اور مفادات کارفرما تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے احتساب و داخلہ امور مرزا شہزاد اکبر نے ان الزامات کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ ان کا یا وزیراعظم کا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں اور وہ تو سجاد باجوہ کو جانتے بھی نہیں ہیں۔
سجاد باجوہ نے کہا کہ وہ اس سارے معاملے کو لے کر عدالت جائیں گے تاکہ حقائق قوم کے سامنے آ سکیں اور جو با اثر طبقہ چینی بحران میں ملوث تھا اس کے چہرے سامنے آ سکیں۔