سینئر صحافی اور معروف ٹی وی اینکر رؤف کلاسرا نے اپنا نیا وی لاگ میں سابق امریکی صدر باراک اوبامہ کی نئی کتاب ‘ اے پرامسڈ لینڈ’ کے متعلق کیا ہے جس میں اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کے حوالے سے بڑے انکشافات کیے گئے ہیں۔
رؤف کلاسرا نے کتاب کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ باراک اوبامہ نے ایبٹ آباد آپریشن کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری کو ٹیلیفون کیا اور ان سے ہونے والی گفتگو کی تفصیل کتاب میں بیان کر دی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اوبامہ نے کتاب میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل کیانی کو بھی فون کیا تھا اور اپنی نئی تصنیف میں بتایا ہے کہ ان سے کیا بات چیت ہوئی تھی۔
اوبامہ کو سب سے پہلے اسامہ کے متعلق کیا بتایا گیا؟
رؤف کلاسرا نے بتایا کہ اوبامہ کو جب پہلی بار اسامہ بن لادن کے متعلق اطلاع دی گئی تو ان کا خیال تھا کہ وہ پاکستان کے قبائلی علاقے یا افغانستان کے سرحدی علاقوں میں کہیں چھپے ہوئے ہوں گے۔
اوبامہ کتاب میں لکھتے ہیں کہ انہیں بتایا گیا ایبٹ آباد میں ایک گھر میں کافی بڑی فیمملی رہتی ہے اور ایک ایسے کویتی شخص کا ان سے رابطہ ہے جو امریکی انٹیلی جنس کی نظروں میں ہے اور اسے اسامہ بن لادن کا قریبی آدمی سمجھا جاتا ہے۔
اوبامہ نے کہا کہ پہلے کنفرم کیا جائے کہ کیا واقعی اس گھر میں اسامہ بن لادن رہتے ہیں؟
اگست 2010 سے مئی 2011 کے دوران اس معاملے پر مسلسل میٹنگز کی گئیں، اسامہ بن لادن کے متعلق کنفرم کیے بغیر آپریشن کرنے کے متعلق اوبامہ کی ٹیم میں اختلاف رائے موجود تھا۔
آپریشن کے لیے کون سا طریقہ اختیار کیا جائے؟
اوبامہ لکھتے ہیں کہ جب اس بات پر اتفاق رائے ہو گیا کہ زیادہ امکان یہی ہے کہ اسامہ بن لادن ہی اس گھر میں موجود ہے تو یہ سوال پیدا ہوا کہ اس کے خلاف آپریشن کے لیے کون سا طریقہ اختیار کیا جائے؟
اوبامہ کے مطابق ایک نکتہ نظر یہ تھا کہ اس گھر پر میزائیل سے حملہ کیا جائے مگر اسے رد کر دیا گیا کیونکہ اس میں سول آبادی کو بہت نقصان ہونے کا خدشہ تھا۔
اسی طرح دوسرا آپشن ڈرون سے حملہ کرنے کا تھا، تیسرا جہاز کے ذریعے بمباری کا تھا، مگر اصل مسئلہ یہ تھا کہ دنیا کو کس طرح یقین دلایا جائے گا کہ واقعی اس گھر میں اسامہ بن لادن ہی موجود تھا۔
اوبامہ کو یہ بھی بتایا گیا تھا کہ اس گھر میں 23 کے قریب بچے، خواتین اور مرد موجود ہے، چونکہ اسامہ بن لادن کی وہاں موجودگی سو فیصد یقینی نہیں تھی اس لیے جہاز کے ذریعے حملے یا میزائیل اٹیک کو بھی رد کر دیا گیا۔آ
آخرکار یہ فیصلہ کیا گیا کہ وہاں کمانڈو بھیجے جائیں تاہم اس کی تفصیلات طے کرنے میں بہت وقت لیا گیا کیونکہ ایبٹ آباد میں پاکستان کی فوج بھی موجود تھی اور آپریشن کے دوران پولیس بھی پہنچ سکتی تھی۔
اس حوالے سے رؤف کلاسرا نے بہت دلچسپ اور اہم تفصیلات بیان کی ہیں جنہیں وی لاگ میں دیکھا جا سکتا ہے۔
اوبامہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ہیلری کلنٹن کا خیال تھا کہ پاکستان کو اعتماد میں لے کر ایک مشترکہ آپریشن کیا جائے لیکن اس سے قبل کئی اطلاعات پاکستانی فوج کو دی گئیں جو لیک ہو گئیں۔ اس لیے یہ آپشن بھی رد کر دیا گیا۔
اگر پاکستانی فوج آپریشن کے دوران پہنچ گئی؟
امریکیوں کے لیے ایک بڑا سوال یہ تھا کہ اگر ان کے کمانڈوز زمینی آپریشن کے لیے وہاں پہنچتے ہیں اور وہاں غیرمتوقع مسائل پیش آ جاتے ہیں تو پھر کیا کرنا چاہیئے؟
رؤف کلاسرا نے وی لاگ میں ان تمام آپشنز کی تفصیل بتائی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکی حکومت پاکستان کے ردعمل کے متعلق کتنی حساس تھی اور وہ کس طرح پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے تھے۔
سب سے بڑا مسئلہ امریکی انتظامیہ کے لیے یہ تھا کہ اگر آپریشن کے دوران پاکستانی فوج یا پولیس وہاں پہنچ جاتی ہے اور وہاں آپس میں لڑائی چھڑھ جاتی ہے تو اس کے لیے کیا کرنا ہو گا؟
رؤف کلاسرا نے اس کے تدارک کے لیے بھی کتاب میں لکھی ہوئی مکمل تفصیل بیان کی ہے جو بہت دلچسپ ہے اور دو ملکوں کے سفارتی تعلقات کے تناظر میں حساسیت کو ظاہر کرتی ہے۔
امریکی طویل قامت شخص کو ساتھ کیوں لے گئے؟
اوبامہ نے کتاب میں اس وقت کی کیفیت بھی لکھی ہے جب امریکی کمانڈوز کا ایک ہیلی کاپٹر اسامہ بن لادن کی حویلی کی دیوار سے ٹکرا کر گر گیا تو امریکہ میں آپریشن روم میں کس طرح کی سراسیمگی پھیل گئی اور وہاں کیا گفتگو ہوئی۔
سابق امریکی صدر نے اس فقرے کے متعلق بھی لکھا جب امریکی کمانڈوز نے اسامہ بن لادن کو مارنے کے بعد بولا اور جو آپریشن روم تک پہنچا اور پھر وہاں کی کیا صورتحال ہوئی۔
امریکی فوجی ایک طویل قد کے شخص کو بھی ساتھ لے گئے تھے، اوبامہ نے اس کی وجہ بھی لکھی جو اس صورتحال میں مضحکہ خیز لگتی ہے۔
آصف زرداری اور جنرل کیانی کا ردعمل
اس کے بعد اوبامہ نے تفصیل لکھی ہے کہ انہوں نے کن ملکی اور غیرملکی رہنماؤں کو فون کر کے اس معاملے کے متعلق بتایا اور پھر اصل مسئلہ ان کے سامنے آیا کہ پاکستانی حکومت کو کس طرح اعتماد میں لیا جائے اور ان کی جانب سے آنے والے ممکنہ شدید ردعمل کو کس طرح سنبھالا جائے۔
یہ اس کتاب کا سب سے اہم حصہ ہے جس کی تفصیل وی لاگ میں بتائی گئی ہے۔
اوبامہ لکھتے ہیں کہ جب انہوں نے اس وقت کے صدر زرداری کو فون کر کے اس آپریشن کی اطلاع دی تو انہوں نے جو جواب دیا اس پر وہ حیران رہ گئے۔
آصف زرداری نے انہیں مبارکباد دی اور کہا کہ جو کچھ بھی ہوا وہ ٹھیک ہوا، بینظیر بھٹو کو بھی مارنے والے یہی انتہاپسند لوگ تھے۔
اوبامہ لکھتے ہیں کہ جنرل کیانی کو مائیک ملن نے فون کیا اور انہیں بتایا تو انہوں نے بڑی شائستہ گفتگو کی اور کوئی شکوہ نہیں کیا۔
جنرل کیانی نے مائیک ملن کو کہا کہ جو کچھ آپ نے کیا ہے اس کا اعلان کریں اور اس کی ذمہ داری خود لیں۔
اس گفتگو کی مزید تفصیل وی لاگ میں دیکھی جا سکتی ہے۔