کشمور میں بچی سے زیادتی میں ملوث ملزم کو گرفتار کرکے تاریخی کردار بن جانے والے پولیس افسر اے ایس آئی محمد بخش کے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا۔
محمد بخش اور اس کے اہل خانہ کو بگھی پر سی پی او آفس لایا گیا جہاں انسپکٹر جنرل سندھ مشتاق مہر نے ان کا استقبال کیا۔
سینٹرل پولیس آفس کراچی میں منعقدہ تقریب میں سندھ پولیس کے انسپکڑ جنرل (آئی جی) نے اے ایس آئی اور ان کے اہل خانہ کو 20 لاکھ روپے نقد انعام کا اعلان کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے کہا کہ یہ منفرد واقعہ ہے، پولیس افسر کی بہادر بیٹی کو بھی سلام پیش کرتا ہوں، سندھ پولیس کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔
آئی جی سندھ نے کہا کہ ہمیں اپنے بہادر پولیس اہلکاروں پر فخر ہے، پولیس افسر کیلئے تمغہ شجاعت کی سفارش کی ہے۔
ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے اے ایس آئی محمد بخش کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو خود یہاں آنا تھا لیکن کورونا کے باعث وہ شرکت نہیں کر سکے۔
اس موقع پر اے ایس آئی محمد بخش نے خطاب کیا لیکن وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ پائے اور آبدیدہ ہو گئے، ان کا کہنا تھا کہ وہ حوصلہ افزائی پر آئی جی سندھ اور صوبائی حکومت کے شکر گزار ہیں۔
محمد بخش کا کہنا تھا کہ زیادتی کا نشانہ بننے والی بچی کی حالت ناقبل بیان تھی، آپریشن کرنے والا ڈاکٹر بھی بچی کو دیکھ کر 6 گھنٹے تک روتا رہا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں کاروکاری کے نظام کے باوجود ملزم گرفتار کرنے کے لئے اپنی بیٹی کو پیش کیا۔
اے ایس آئی محمد بخش نے بتایا کہ متاثرہ بچی کی والدہ کو نوکری کا جھانسہ دے کر کشمور لایا گیا تھا۔
واضح رہے سوشل میڈیا پر سندھ پولیس کے بہادر افسر محمد بخش اور اس کے اہل خانہ کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔
سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک صارف نے لکھا کہ آج پولیس کو احساس ہونا چاہئے کہ جب وہ ایمانداری سے اور بے غرضی سے اپنا فرض ادا کریں گے تو عوام انہیں سر آنکھوں پر بٹھائیں گے۔
اسی طرح ایک اور صارف نے لکھا کہ بہادری پولیس کے ادارے کی نہیں بلکہ اے ایس آئی کے گھر کی تربیت کی نشانی ہے۔