لاہور : پاکستان کی معروف گلوکارہ شبنم مجید کے بھائی کو قتل کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ لاہور کے علاقے بادامی باغ میں پیش آیا ہے، پولیس نے گلوکارہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا۔
ایف آئی آر کے مطابق مقدمہ میں مقتول کی اہلیہ کے بھائیوں کو نامزد کیا گیا ہے۔ گلوکارہ کے بھائی کی اپنی بیوی سے تکرا ہوتی رہتی تھی۔
مدعیہ نے مؤقف اپنایا کہ میرے بھائی کو اس کے سالوں نے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی تھیں۔ پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے مردہ خانے منتقل کر دیا۔
فروری 2020 میں گلوکارہ شبنم مجید نے شوہر سے علیحدگی کے لیے خلع کا دعویٰ دائر کردیا تھا، انہوں نے لاہور کی فیملی کورٹ میں شوہر واجد علی سے خلع لینے کے لیے درخواست دائر کی۔
درخواست میں شبنم مجید نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے چار بچے ہیں، شوہر واجد علی نے اپنی سابقہ بیوی سے رجوع کرلیا ہے، واجد علی اور سابقہ بیوی کی تصویریں بھی وائرل ہوچکی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں وہ سخت پریشان ہیں اور شوہر کے ساتھ گزارا ممکن نہیں۔ وہ ذہنی کرب میں مبتلا ہیں اور ان کا شوہر کےساتھ رہنا مشکل ہوگیا ہے لہٰذا عدالت خلع کی ڈگری جاری کرے۔