اسلام آباد: پاکستان میں کورونا کی دوسری لہر کے بعد بڑھتے کیسز اور موسم سرما میں بیماری کی شدت میں اضافے کے پیش نظر حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وائرس سے بچاو کے لیے تیار کی گئی ویکسین کی ایڈوانس بکنگ کرائی جائے گی۔
پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت نوشین حامد نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے ویکسین کی ایڈوانس بکنگ کرانے کی منظوری دے دی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت کی منظوری کے بعد ویکسین کی بکنگ کے لیے دو بڑی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے ساتھ رابطہ کر لیا گیا ہے۔
پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے جلد ہی ویکسین کی بکنگ کے لیے ادائیگی بھی کر دی جائے گی جس کے بعد دوا ساز کمپنیوں سے مزید بات چیت کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا ویکسین حاصل کرنے کے بعد اسے مرحلہ وار پورے ملک میں عوام کے لیے قابل پہنچ بنایا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں ہیلتھ ورکرز اور عمر رسیدہ افراد کو ویکسین لگائی جائے گی۔ اس کے بعد تقریباً ایک کروڑ لوگ پہلے مرحلے سے مستفید ہوں گے۔
یاد رہے کہ معروف ٹی وی اینکر رؤف کلاسرا نے گزشتہ رات کابینہ اجلاس کی اندرونی کہانی بتاتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ حکومت نے ویکسین کی ایڈوانس بکنگ کے لیے ابھی تک کوئی کوشش نہیں کی۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت دنیا کے مختلف ممالک ویکسین کے حصول کے لیے فنڈنگ کر رہے ہیں مگر پاکستانی حکومت اس حوالے سے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہے۔
یاد رہے اس سے قبل عالمی وبا کورونا کے پھیلاؤ کے پیش نظر حکومت نے جلسے، جلوسوں پر پابندی عائد کر دی تھی جبکہ کاروبار کو ایس او پیز کے ساتھ کھولے رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔
وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ مساجد، فیکٹریوں اور دکانوں میں ایس او پیز پر عمل کرنا ہو گا جبکہ اسکولوں کو بند کرنے کا حتمی فیصلہ ایک ہفتے بعد ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ 10 دن میں کورونا کیسز میں چار گنا اضافہ ہوا ہے، خدشہ ہے کہ خدانخواستہ حالات اس سے بھی خراب نہ ہو جائیں۔
وزیراعظم کے مطابق وائرس پہلے سے زیادہ خطرناک ہوا ہے، اگر ابھی ہم احتیاط کر گئے تو اسے روک سکتے ہیں