لاہور کی عدالت عالیہ نے اپنے ایک بیان میں حکومتی عہدیداروں کی جانب سے سرکاری تحائف کی خفیہ نیلامی کو روکنے کا حکم دیا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ میں چیف جسٹس قاسم خان نے سرکاری تحائف کی نیلامی روکنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔
سماعت کے دوران عدالت نے تحائف کی خفیہ نیلامی کا نوٹیفیکیشن معطل کرتے ہوئے اٹارنی جنرل پاکستان سمیت دیگر کو نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔
دوران سماعت عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے یہ آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی ہے اور حکومت کا یہ حال ہے کہ اندھا بانٹے ریوڑیاں اور اپنوں کو دے۔
چیف جسٹس قاسم خان نے استفسار کیا کہ نیلامی اپنے پہلے قدم پر ہی غیرشفافیت کا شکار ہو گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کیا ملک کے باقی لوگ کیڑے مکوڑے تصور کیے جاتے ہیں؟ کیا یہ سب سول بیوروکریسی کا حق ہے؟
اپنے ریمارکس میں معزز جج کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں سمجھ آتی کہ یہ آئین کس مرض کی دوا ہے۔
یاد رہے حکومت نے اس سے قبل فیصلہ کیا تھا کہ سرکاری خزانے میں موجود سرکاری تحائف کو حکومتی اور عسکری افسران کو بیچ دیا جائے۔
سرکاری خزانے میں موجود 177 قیمتی اشیاء کی نیلامی 25 نومبر کو رکھی گئی تھی لیکن عدالت نے نیلامی کا نوٹیفیکیشن معطل کرتے ہوئے اسے روکنے کاحکم دے دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان قیمتی اشیاء میں لاکھوں روپے کی مالیت کے بریسلیٹ، نیکلس، سونے کی تسبیح، گھڑیاں، انگوٹھیاں، جھمکے، قیمتی ساڑھیاں اور خنجر بھی شامل تھے۔