ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کا واحد حل عالمی سطح پر مشترکہ کاوشوں میں مضمر ہے۔
دنیا میں کورونا وبا کے ساڑھے 5 کروڑ کیسز سامنے آئے ہیں جب کہ 13 لاکھ لوگ لقمہ اجل بن گئے ہیں، اس وقت نسل انسانی کی تمام امیدوں کا مرکز ویکسین ہے لیکن ساتھ ساتھ اس تشویش کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ ویکسین کے حصول کی دوڑ میں غریب ممالک پیچھے نہ رہ سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ویکسین تیار کرنا ہی معاملے کا حل نہیں ہے بلکہ سارے ممالک کو ساتھ لے کر چلنا معاملے کا حل ہے۔
ماہرین کے مطابق کورونا کی موجودہ صورتحال اور ویکسین کی تیاریوں کی خبروں کے باوجود خدشات ہیں کہ غریب ممالک ترقی یافتہ ممالک سے کہیں پیچھے رہ جائیں گے۔
یاد رہے کورونا کے لیے تیار کی گئی دو ویکسینیں ایسی ہیں جنہیں موثر ترین کہا جا سکتا ہے۔ کچھ ادویات تیاری کے آخری مراحل میں ہیں جب کہ کچھ ویکسین کی تیاری پر کام ابھی شروع کیا گیا ہے۔
ان میں سے کسی بھی ویکسین کو تاحال عالمی سطح پر تصدیق شدہ قرار نہیں دیا گیا لیکن اس کے باوجود کئی ممالک ان کی ایڈوانس بکنگ کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔
جنوبی کیرولائنا کی ڈیوک یونیورسٹی کے ماہرین مختلف ممالک اور عالمی فارماسیوٹیکل کمپنیوں میں ہونے والی ڈیلز پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ان محققین کا کہنا ہے کہ کورونا کے لیے تیار کی گئی ویکسین کی 6.4 ارب خوراکیں خریدی جا چکی ہیں جب کہ 3.2 ارب کی یا تو ایڈوانس بکنگ کرائی جا چکی ہے یا ان کے معاملات زیر غور ہیں۔
لندن اسکول آف اکنامکس میں گلوبل ہیلتھ پالیسی کے پروفیسر کلیئر وینہام کا کہنا ہے کہ دوا سازی کی صنعت میں ایڈوانس خریداری کا عمل مضبوطی سے قدم جما چکا ہے کیونکہ اس سے کمپنیوں کے پاس فنڈز کی کمی کا مسئلہ حل ہو جاتا ہے اور پراڈکٹس کی تیاری اور اس کی آزمائش کے مراحل طے کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
پروفیسر کلیئر وینہام کہتی ہیں کہ یہ عمل بھی غریب ممالک کو پیچھے کر دیتا ہے کیونکہ سب سے زیادہ قیمت ادا کر سکنے والا فریق ویکسین کو سب سے پہلے حاصل کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ تحقیق کرنے پر پتا چلا ہے کہ کورونا کی ویکسین کو اب تک خریدنے والے سب ملک ترقی یافتہ یا زیادہ آمدنی والے ممالک ہیں۔
ماہرین صحت نے کہا ہے کہ اس وقت کچھ اوسط آمدنی والے ممالک کی عالمی ادویات ساز کمپنیوں کے ساتھ ویکسین کی ایڈوانس بکنگ کی بات چیت ابتدائی مراحل میں ہے۔
دوسری جانب بھارت کی ایک کمپنی سیرم انسٹیٹوٹ نے کہا ہے کہ وہ اپنی آدھی ادویات کو ملکی سطح پر استعمال کے لیے مختص کریں گے۔
عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت انڈونیشیا کورونا ویکسین کی تیاری کے لیے چینی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کر رہا ہے جب کہ برازیل یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے ساتھ مل کر ویکسین کی تیاری کے لیے کوشاں ہے۔
محققین بتاتے ہیں کہ اس وقت عالمی سطح پر یہ واضح نہیں ہے کہ کون سی ویکسین کورونا کے لیے موثر ترین رہے گی تاہم کچھ زیادہ آمدنی والے ممالک ایک سے زیادہ ادویات ساز کمپنیوں کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ ادویات کو خریداجا سکے۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق انڈیا، یورپ، امریکا، کینیڈا اور برطانیہ ان ممالک کی فہرست میں شامل ہیں جنہوں نے سب سے زیادہ ادویات کی خریداری کی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ بات واضح ہے کہ ترقی یافتہ ممالک اپنی عوام کو کورونا سے محفوظ کرنے کے لیے یہ خریداریاں کر رہے ہیں لیکن ایک عالمی وبا کا مل جل کر مقابلہ کیا جانا چاہیے۔